کانٹوں پر چلتے چلتے اس کے پاؤں زخمی ہو گئے وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور اپنے پاؤں سے کانٹے نکالنے لگے آتے جاتے لوگ اس کی طرف حقارت سے دیکھ رہے تھے، کسی نے بھی اس کے دکھ کا مداوا نہ کیا وہ آنکھوں میں آنسو لیے پھر سے وہ لمحہ یاد کرنے لگی ۔۔کاش وہ ایک بار میری بات کا یقین کر لیتے۔۔مجھے معاف کر دیں معاذ میں آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گی آپ کے ساتھ پوری وفاداری کے ساتھ رشتہ نبھا رہی ہوں میں وہ میرا ماضی تھا، جس دن سے آپ کے ساتھ شادی ہوئی ہے اس دن کے بعد میں نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا اس نے میرے لیے رشتہ بھیجا تھا میرے والدین نہیں مانے اس کے آگے اور کچھ بھی نہیں جس نے بھی آپ کو یہ سب بتایا ہے وہ غلط ہے۔۔میرے اور آپ کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا سبب ہے میں دروازہ کھولنے گئی تو وہ سامنے کھڑا تھا سلام دعا ہو گئی بس اس سے آگے کچھ بھی نہیں، میں آئندہ یہ بھی نہیں کروں گی اگر آپ کو برا لگا ہے۔
حلیمہ معاذ کے قدموں سے لپٹ کر اپنی پارسائی کا ثبوت دے رہی تھی لیکن معاذ کے دل میں شک کا بیج اس کی پارسائی سے بہت بڑا تھا وہ اپنی ماں، بہن کی باتوں میں آ کر سب کچھ بھول گیا تھا۔۔۔
حلیمہ اور معاذ کی شادی ہوئے تقریبا پانچ سال ہو گئے تھے ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی جس کے طعنے حلیمہ کو صبح شام سننے پڑتے حلیمہ ہر روز اللہ تعالی کے آگے روتی فریاد کرتی گڑگڑاتی کہ یا اللہ مجھے اولاد سے نواز دیں، میرے دامن سے یہ بانجھ پن کا داغ دھل جائے گا ،اللہ تعالی آپ رحیم ہے آپ کریم ہے، اپنے فضل سے میری خالی جھولی بھر دیجئے۔۔۔کل شب دروازے پر دستک ہوئی تو حلیمہ دروازہ کھولنے گئی_حلیمہ آپ یہاں سامنے کھڑے اسد نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔حلیمہ نے بھی خوش روی سے جواب دیا اس کو کیا خبر یہ اخلاق دکھنا اس کا سب سے بڑا گناہ بن جائے گا۔ حلیمہ کی ساس اور نند کو موقع مل گیا حلیمہ پر بہتان لگانے کا انہوں نے معاذ کو دو کی تین لگا کر بتائی اور معاذ کان کا کچا بغیر تصدیق کیے حلیمہ پرطانوں کے تیر بر سانے لگا اور بنا کچھ سوچے، سمجھے بد کردار کا الزام لگا کر تین الفاظ کے قید سے رشتے کو آزاد کیا اور گھر سے دھکے دے کر باہر نکال دیا یہاں تک کہ جوتا پہننے کی بھی مہلت نہ دی۔۔
2سال بعد:-چلو باہر کھانا کھانے چلتے ہیں رہنے دیں اسامہ آپ تھک گئے ہوں گے نہیں میں ٹھیک ہوں اور جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے تھکاوٹ کا احساس کہاں؟
حلیمہ کی دو بیٹیاں ہیں ہالے اور حور جو اپنی شرارت سے سارا دن ماں کو تنگ کیے رکھتی ہیں ان کو دیکھ کر حلیمہ کو اپنی قسمت پر رشک آتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کی پکار سن لی اللہ تعالی نے اس کے دامن پر لگے ہوئے داغ کو دھو ڈالا اللہ تعالی نے حلیمہ کو مایوس نہیں لوٹایا۔۔۔اسامہ حلیمہ سے بہت محبت کرتا ہے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے نیک بیوی کے ملنے پر حلیمہ تو زندگی میں خوش ہے۔لیکن معاذ آج بھی تنہا ہے اس کے پاس سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں حقیقت عیاں ہونے کے بعد اس نے ماں، بہن کو چھوڑ دیا اور الگ سے کرائے کا گھر لے کر رہنے لگا اس حقیقت کے بعد معاذ کا ضمیر ہر وقت اسے ملامت کرتا، جھنجوڑتا رہتا اس نے ارادہ کیا جب بھی کہیں حلیمہ ملی تو میں ضرور اس سے معافی مانگ لوں گا تب ہی میرے دل کو سکون آئے گا۔۔۔شک کا بیج بہت سے گھروں کو برباد کر دیتا ہے اپنے رشتے پر پورا اعتماد رکھیں تب تک کوئی بات نہ کریں جب تک تحقیق نہ کرلی جائے۔میاں بیوی کا رشتہ بھروسے پر ہی قائم ہوتا ہے اگر بھروسہ ہی نہ رہے تو رشتہ بھی نہیں رہتا اور انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے جیسے معاذ خالی ہاتھ رہ گیا۔۔۔
