واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف کے مطابق چینی حکومت کے غیر اعلانیہ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے امریکی صحافی تھامس وئیر پاؤکن دوم کو دو سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
51 سالہ ٹیکساس کے رہائشی تھامس پاؤکن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ چین کے لیے کام کر رہے تھے اور امریکی سیاسی حلقوں میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوششوں میں ملوث تھے۔ استغاثہ کے مطابق انہوں نے ایک ایسے شخص کو بھی مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ میں ملازمت حاصل کرنے کے بعد چین کے لیے جاسوسی کر سکتا ہے۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق پاؤکن کو اپنی سرگرمیوں کے عوض کم از کم ایک لاکھ ڈالر ادا کیے گئے۔ انہیں ایک ممکنہ جاسوس سے ملاقات کرکے اسے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور 10 ہزار ڈالر فراہم کرنے تھے تاکہ وہ ایسی رپورٹس تیار کرے جو مبینہ طور پر چینی صدر شی جن پنگ تک پہنچائی جانی تھیں۔
ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ جاسوسی ڈویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رومن روزہوسکی نے کہا کہ پاؤکن نے چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی کی ہدایت پر امریکی سیاسی حلقوں میں رسائی حاصل کرنے اور چینی حکام کے لیے نئے افراد کی بھرتی کے اہداف فراہم کرنے کی کوشش کی۔پاؤکن 2010 میں چین منتقل ہوئے تھے اور وہاں متعدد چینی ذرائع ابلاغ کے لیے صحافتی خدمات انجام دیتے رہے، جن میں سرکاری نشریاتی ادارہ سی سی ٹی وی بھی شامل ہے۔ وہ 2024 سے چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کر رہے تھے۔
تحقیقات کے مطابق 2017 میں پاؤکن کی ’’کیتھی‘‘ نامی ایک خاتون سے ملاقات ہوئی، جس نے مبینہ طور پر انہیں امریکا کے مختلف دوروں کے اخراجات فراہم کیے اور رپورٹس تیار کرنے کو کہا۔ پاؤکن کے مطابق یہ رپورٹس چین کے اعلیٰ حکام تک بھی پہنچائی جاتی تھیں۔جنوری 2025 میں ایک دورے کے دوران پاؤکن کو ایک شخص تک رقم اور مواصلاتی آلات پہنچانے کی ہدایت کی گئی، تاہم امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔ پاؤکن نے اہلکاروں کو بتایا کہ انہیں تقریباً 80 فیصد یقین ہے کہ مذکورہ شخص ٹرمپ انتظامیہ میں ملازمت ملنے کی صورت میں بیجنگ کو خفیہ معلومات فراہم کرے گا۔امریکی حکام کے مطابق بعد ازاں فروری 2026 میں واشنگٹن ڈی سی کے ایک ریسٹورنٹ میں سامان اور رقم کی منتقلی سے متعلق ملاقات ہوئی۔عدالت نے پاؤکن کو دو سال قید کے علاوہ 36 ماہ تک زیرِ نگرانی رہنے کی سزا بھی سنائی ہے۔ اس دوران ان پر بیرونِ ملک سفر کرنے پر پابندی عائد ہوگی۔
پاؤکن اپنی صحافتی تحریریں ’’ٹام میک گریگر‘‘ کے نام سے شائع کرتے رہے ہیں، جو مبینہ طور پر ان کے والد تھامس ڈبلیو پاؤکن سینئر کی خواہش پر اختیار کیا گیا تھا۔ ان کے والد ٹیکساس ریپبلکن پارٹی کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔
