Baaghi TV

شکر گزاری ،تحریر:صغیرجعفری

اللہ تعالٰی نے ہمیں بےشمار، قیمتی نعمتوں برکتوں اور رحمتوں سے نوازا ہے کہ ہم ان کا شمار بھی نہیں کر پاتے اللہ تعالٰی ان عنایات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
و ان تعدو نعمت الله لا تحسو ها
اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار نہیں کر سکو گے
پھر ارشاد فرمایا
فاباي الاء ر بكما تكذبان
تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔
ایک لمحے کے لئے غور فرمائیں کہ اللہ تعالٰی کی بےشمار ایسی نعمتیں ہیں جو ہمیں مفت ملی ہیں۔ سورج کی روشنی اور حرارت جس سے ہمارا سارا نظام حیات چلتا ہے وہ اللہ تعالٰی ہمیں مفت عنایت فرماتے ہیں سب سے اہم پہلو سانس لینے کے لئے ہوا آکسیجن جس کے بغیر کوئی بھی ذی روح زندہ نہیں رہ سکتا۔ذرا تصور فرمائیں کہ اگر یہ آکسیجن ہمیں خریدنا پڑتی تو ہمارا کیا حال ہوتا۔ہسپتالوں میں جو مریض پھیپھڑے کمزور ہونے کی وجہ سے سانس نہیں لے سکتے انہیں سانس لینے کے لئے آکسیجن کے سلنڈر خریدنے پڑتے ہیں تو ان کا بل کس قدر زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ہوا کے بعد زندگی کے لئے اہم ضرورت پانی کی ہوتی ہے۔انسان حیوانات چرند پرند غرضیکہ ہر جاندار کی زندگی کے لئے پانی بنیادی ضرورت ہے۔ نباتات پانی کے بغیر نشوونما پا ہی نہیں سکتے۔پانی جیسی نعمت عظمی’ بھی اللہ تعالٰی نے مفت عنایت فرمائی ہے۔دریائوں قدرتی چشموں کا پانی بھی بالکل مفت میں ملتا ہے۔اس بات پر بھی غور فرمائیں کہ اگر سمندر کے پانی پر نقل و حمل کے لئے چلنے والے بحری جہازوں کو بھی سمندری پانی پر چلنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی تو ہمیں کتنا بھاری معاوضہ ادا کرنا پڑتا۔
اللہ تعالٰی کی جس قدر نعمتیں زیادہ اور قیمتی ہیں تو ہمیں اسی حساب سے اللہ تعالٰی کا شکر بھی بجا لانا چاہئے

حضرت موسی’ علیہ السلام کے ایک صحابی نے عرض کی کہ آپ کلیم اللہ ہیں اللہ تعالٰی سے میری یہ گزارش کیجئے گا کہ اللہ تعالٰی کی عطا کردہ دولت میرے پاس اس قدر زیادہ ہے کہ میں اسے صحیح طرح سنبھال نہیں پاتا بس مجھے اتنا ہی عطا فرمائیں جسے میں آسانی سے سنبھال سکوں ۔حضرت موسی’ علیہ السلام آگے بڑھے تو ایک نحیف بڑھیا نے کہا کہ میری ایک عرض اللہ تعالٰی کے حضور پیش کرنا کہ میں اکیلی ضعیف و ناتواں ہوں میرا کوئی سہارا نہیں ہے فاقوں میں زندگی گزار رہی ہوں کبھی میرے بھی اچھے دن آئیں گے۔ حضرت موسی’ علیہ السلام اللہ تعالٰی سے ان دونوں کی گزارشات پیش کرنے کے بعد اس شخص سے ملے جس سے دولت سنبھالی نہیں جا رہی تھی اسے اللہ تعالٰی کا یہ فرمان سنایا کہ تم اللہ تعالٰی کی ناشکری کرنا شروع کر دو تمہاری دولت خود بخود تمہارے کنٹرول میں آ جائے گی۔تو اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول میری دولت اللہ تعالٰی نے ہی عطا کی ہے بیشک آئندہ مجھے کوئی دولت نہ دے تو میں پھر بھی ہر حال میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالٰی اس کی نیت دیکھتے ہی اس کی دولت میں مزید اضافہ فرما دیا۔ بڑھیا کے لیے اللہ کا فرمان اسے سنایا کہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔وہ بڑھیا غصے کی تیز تھی دو بدو ہو کر کہنے لگی کہ
* لاین شکر تم لا غنيمة لا مقصورة * میں کس چیز کا شکر کروں۔میرے پاس نہ تو بھیڑ بکریاں ہیں (کیونکہ اس وقت جس کے پاس مال مویشی زیادہ ہوتےچل تھے اسے ہی مالدار سمجھا جاتا تھا )
نہ ہی میرے پاس محل ماڑیاں ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیز آندھی چلی تو بڑھیا کی کٹیا اڑ کر بکھر گئی۔ اس پر
مجھے قرآن مجید کی وہ آیت کریمہ یاد آگئی جس میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ۔** اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اضافے کے ساتھ مزید عطا کروں گا اور اگر تم میری عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرو گے تو تمہارے لئے میرا شدید عذاب ہو گا

وہ بڑھیا اسی عذاب کا شکار بنی تھی۔ آئیں ہم دیکھتے ہیں شکرگزاری ہے کیا اور ہمیں اللہ تعالٰی کا شکر کیسے ادا کرنا چاہئے شکر گزار ہونے کا عملی نمونہ ہمارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ والسلم ہیں۔ مال غنیمت اور صدقات کی مد میں جو اشیاء آپ کی خدمت میں آتیں جب تک وہ تمام مال غنیمت مستحق لوگوں میں تقسیم نہ کر دیتے وہاں سے اٹھتے نہیں تھے خالی ہاتھ گھر تشریف لاتے اور فرماتے ** یا اللہ تیرا شکر ہے آپ نے جو مال مجھے عطا کیا آپ کی مخلوق میں تقسیم کر دیا اور اپنے اہل کے لئے کچھ نہیں بچایا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ والسلم رات کو کھڑے ہو کر عبادت فرماتے تو پائوں سوج جاتے۔ آم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا عرض کرتیں کہ تھوڑا آرام فرما کر لیا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ والسلم فرماتے
* افا لا عبدا” شکورا *
کیا میں اللہ تعالٰی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکرگزاری (Gratitude) سے مراد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں کا دلی اعتراف کرنا اور زبان و عمل سے اس کا شکر ادا کرنا ہے。 یہ ایک ایسا مثبت جذبہ ہے جو انسان کی ذہنی صحت کو بہتر بناتا ہے، خوشی کے احساس میں اضافہ کرتا ہے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق مزید نعمتوں کے حصول کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔

شکرگزاری کے درجے اور اظہار کے طریقے:
دل سے شکر: نعمتوں کی قدر کرنا اور انہیں ہمیشہ اللہ کی طرف سے عطا سمجھنا。
زبان سے شکر: کثرت سے اللہ کی حمد و ثناء کرنا اور "الحمد للہ” کہنا。
عمل سے شکر: اللہ کی دی ہوئی نعمتوں صحت، مال و دولت، اور صلاحیت کو اس کی رضا اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا。 اللہ تعالٰی کی مخلوق کی خدمت بھی عین شکر گزاری ہے
شکرگزاری کے فوائد:
شکرگزار انسان ہمیشہ ذہنی سکون میں رہتا ہے۔ اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے، اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کے مطابق جو شخص لوگوں کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔

قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾
(ترجمہ: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ نوازوں گا یعنی اورزیادہ عطا کروں گا”)۔
مذہبی و روحانی پہلوؤں کے علاوہ جدید سائنسی تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ شکرگزاری کرنے والے افراد زیادہ پر خلوص پرامید، زیادہ مطمئن پرسکون اور بہتر سماجی تعلقات نبھانے والے ہوتے ہیں معاشرے میں ان کا کردار ہمیشہ مثبت ہوتا ہے
۔اللہ تعالٰی کی بیش بہا اور بیش قیمت نعمتوں کے حصول اور ان نعمتوں کو مزید بڑھانے کے لئے ہمیں ہر صورت، ہر حال میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور شکر گزاری کا بہترین طریقہ اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ تعالٰی کے احکامات کے مطابق اللہ تعالٰی کی مخلوق کی ضروریات کا احساس و خیال رکھتے ہوئے مستحق و نادار لوگوں میں انصاف کے ساتھ تقسیم ہے۔ یہی مثبت جذبہ خدمت خلق اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمتوں کا بہترین ذریعہ شکر ہے

More posts