امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایرانی جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ جیسے ہی خطے میں جنگی تناؤ بڑھا، سوشل میڈیا پر بلغاریہ کی نابینا نجومی بابا وانگا کی پیشگوئیاں دوبارہ موضوعِ بحث بن گئیں۔
بابا وانگا، جن کا انتقال 1996 میں ہوا تھا، سے منسوب مختلف پیشگوئیاں برسوں سے گردش میں رہتی ہیں۔ ان کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 2026 کے آغاز میں ایک “عظیم جنگ” کی پیشگوئی کی تھی جو مشرق سے شروع ہوگی، اور موجودہ حالات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین حالیہ ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی کو ان پیشگوئیوں سے جوڑ رہے ہیں، خاص طور پر اس دعوے کے ساتھ کہ یہ تنازع عالمی سطح پر اثرات مرتب کرے گا۔
وانگا سے منسوب پیشگوئیوں کے مطابق اس ممکنہ جنگ کے اثرات مغربی دنیا، خصوصاً یورپ، پر زیادہ پڑیں گے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی، معاشی بحران اور سماجی عدم استحکام پیدا ہونے کی بات کی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ عالمی تنازعات کے بعد روس ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے اور عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ تاہم ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ ایسی پیشگوئیوں کی سائنسی یا تاریخی تصدیق موجود نہیں اور انہیں حقائق کے بجائے عوامی دلچسپی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
ایران پر حملوں کے بعد بابا وانگا کی پیشگوئیاں دوبارہ زیرِ بحث، 2026 کی ‘عظیم جنگ’ کا دعویٰ وائرل
