کچھ دن تاریخ کے اوراق پر قوموں کے حافظے میں جذبہ، قربانی اور عزم کی روشن علامت بن جاتے ہیں۔ 8 ستمبر، یومِ بحریہ بھی ایسا ہی ایک دن ہے؛ ایسا دن جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت صرف زمین کی سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ سمندروں کی بے کراں وسعتوں میں بھی ہمارے جانباز سپوت پاکستان کے دفاع کے لیے ہمہ وقت سینہ سپر رہتے ہیں۔
سمندر بظاہر خاموش ہوتا ہے، مگر اس کی گہرائیوں میں وطن سے محبت کی وہ داستانیں پوشیدہ ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ لہروں کے شور میں ہمیں ان سپاہیوں کی آواز سنائی دیتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر پاکستان کی آبی سرحدوں کی حفاظت کا عہد نبھایا۔8 ستمبر 1965 ہماری بحری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے ثابت کیا کہ پاکستان کی بحری قوت دشمن کے عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن سکتی ہے۔ 6 ستمبر کو دشمن نے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کیا تو ہماری مسلح افواج نے پوری قوم کے ساتھ مل کر دفاعِ وطن کا فریضہ انجام دیا۔ اس کے بعد 8 ستمبر کو پاک بحریہ کے بہادر جوانوں نے سمندری محاذ پر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جرأت اور عزم کا شاندار مظاہرہ کیا۔
آپریشن سومناتھ اسی تابناک تاریخ کا ایک یادگار باب ہے۔ دوارکا پر کارروائی نے دشمن کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی سمندری حدود بھی محفوظ ہیں اور ان حدود کی حفاظت کرنے والے جانباز ہر وقت بیدار ہیں،اور پاکستان اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔
یومِ بحریہ دراصل شہداء کے لہو کو سلام پیش کرنے کا دن ہے۔ ان ماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے اپنے لختِ جگر وطن پر قربان کیے۔ ان باپوں کو سلام کرنے کا دن ہے جنہوں نے اپنے بیٹوں کو وردی پہناتے ہوئے یہ سوچا کہ ان کی اولاد ملک کی حفاظت کے لیے جا رہی ہے۔ ان بہنوں اور بیٹیوں کو سلام کرنے کا دن ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ برداشت کرکے بھی وطن کی محبت کو مقدم رکھا۔پاک بحریہ کی تاریخ بہادری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ قابلیت کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ غازی آبدوز کی تاریخی خدمات ہوں، سمندری محاذ پر دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہو یا موجودہ دور میں پاکستان کی آبی حدود کی نگرانی،پاک بحریہ کے جوانوں نے ہر مرحلے پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
معرکۂ حق کے دوران بھی پاک بحریہ کی ثابت قدمی اور بحری سرحدوں کا دفاع اس روشن روایت کا تسلسل ہے۔ پاکستان کے سمندری مفادات اور آبی سرحدوں کی حفاظت میں پاک بحریہ کا کردار اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ وطن کی حفاظت کا عہد نسل در نسل منتقل ہوتا ہے،آج جب ہم یومِ بحریہ منا رہے ہیں تو ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاک بحریہ کا کردار صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان کی بلیو اکانومی، بندرگاہوں کی ترقی، سمندری وسائل کے تحفظ، آبی راستوں کی سلامتی، قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں اور بین الاقوامی بحری تعاون میں بھی پاک بحریہ ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔سمندر پاکستان کے لیے صرف پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، تجارت اور ترقی کے بے شمار امکانات کا دروازہ ہے۔ گوادر سے کراچی تک پھیلی ہماری ساحلی پٹی اور بحیرۂ عرب سے جڑے ہمارے معاشی مفادات ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ مضبوط بحری قوت ایک مضبوط اور خودمختار پاکستان کی ضرورت ہے۔
ہمیں فخر ہے کہ پاکستان نیوی نہ صرف سمندری سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ مشکل کی گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ آفات کے دوران امداد، سمندری راستوں کا تحفظ اور عالمی سطح پر مشترکہ بحری مشقوں میں شرکت نے پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔یومِ بحریہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن سے محبت ذمہ داری، قربانی، کردار اور عہد کا نام ہے،جب سمندر کی لہریں ساحل سے ٹکراتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بھی اپنے محافظوں کو سلام پیش کر رہی ہوں۔ ہر موج جیسے یہ کہہ رہی ہو کہ جن جوانوں نے پاکستان کی آبی سرحدوں کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا، قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
آج ہم پاک بحریہ کے ان تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ ہم غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، موجودہ افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان خاندانوں کو عقیدت بھرا سلام پیش کرتے ہیں جن کے پیاروں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
پاکستان کی مٹی بھی ہماری ہے اور اس کے سمندر بھی۔
اس کی سرحدیں بھی ہماری امانت ہیں اور اس کا وقار بھی۔
اس کا پرچم بھی ہماری پہچان ہے اور اس کے محافظ ہماری امید۔
آئیے آج یومِ بحریہ کے موقع پر عہد کریں کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے، اپنے وطن کی قدر کریں گے، قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں گے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اللہ تعالیٰ پاک بحریہ، پاکستان کی مسلح افواج اور وطنِ عزیز پاکستان کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے، ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، غازیوں کو سلامت رکھے اور پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔
