ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چار روز کے دوران تین بڑے واقعات ہوئے ،فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے مذموم مقاصد کے لیے معصوم لوگوں پر حملہ کیا ۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پہلاواقعہ4اور5جولائی کی رات ہوا،فتنہ الخوارج نے معصوم شہریوں کونشانہ بنایا،فتنہ الخوارج کےدہشت گردوں نےمذموم مقاصدکیلئےعام شہریوں کونشانہ بنایا، زیارت منگی چیک پوسٹ پر حملے میں 26 دہشتگرد مارے گئے، پولیس کے 27 جوان شہید ہوئے۔زیارت میں مزید 18 پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا ہے ‘ پہلے دن 9 شہید کئے گئے ’ ٹوٹل شہید پولیس اہلکاروں کی تعداد 27 ہوگئی ہے ‘پولیس کی جوابی کارروائی میں پہلے دن 15 خارجی مارے گئے تھے ، خاران اور دالبندین میں آج 14 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا،مجموعی طور پر 54دہشتگردوں کو ہلاک کیا جاچکا،بھارت بلوچستان میں دہشتگردی کروارہا ہے،
خارجیوں کیخلاف آپریشن جاری ہے ‘بلوچستان میں تین بڑے حملے ہوئے ہیں جن میں 42شہادتیں ہوئی ہیں۔ ان میں 4سویلین جبکہ باقی تمام شہداء کا تعلق پاک آرمی اور پولیس سے ہے۔ اب تک 54 فتنہ الہندوستان کے خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے،فتنہ الخوارج نے بلوچستان میں معصوم شہریوں پر حملہ کیا غیور شہریوں نے ان دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا ،بھارت بلوچستان میں دہشتگردی کروارہا ہے،پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن دہشتگردی کروارہے ہیں، بلوچستان کے بہادر لوگوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا،فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد فرار ہو گئے،دہشت گردوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔طالبان رجیم دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ھے کوئی مائی کا لال ریاست پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا ،عوام کی جان و مال، شاہراہوں کے تحفظ اور بلوچستان کے امن کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی خوشحالی اورترقی کے دشمن دہشتگردی کے ان واقعات میں ملوث ہیں۔دہشتگردانہ کارروائیاں بھارت اور وہ قوتیں کروا رہی ہیں جن کو پاکستان کی عزت اور استحکام برداشت نہیں ہوتی، افغانستان کی سرزمین غیر قانونی افغان طالبان رجیم کے زیر قبضہ اس دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے، دہشتگردی کے ان واقعات میں زیادہ ترمارے گئے دہشتگرد افغان تھے،کراچی واقعے میں ملوث 4 حملہ آور میں 3 افغان دہشتگرد تھے، ان دہشتگردوں کو سہولتکاری افغان طالبان رجیم فراہم کررہی ہے،فغان طالبان رجیم کو پاکستان کے عزت اور وقار سے مسئلہ ہے، ان کو ہر اس چیز سے مسئلہ ہے جو بلوچستان کے عوام کے لیے ہے، ان کو کوئٹہ کےلیے جانے والی پانی کی پائپ لائن سے مسئلہ ہے، ہم روز ان دہشتگردوں کا تعاقب کریں گے اور ان کو ہدف بنائیں گے، بلوچستان کے وزیراعلیٰ بائی روڈ زیارت گئے، تین سال سے ریاست جو واضح پالیسی دکھارہی ہے ان کو اس سے پریشانی ہے، ریاست واضح بتارہی ہےکہ یہ فتنہ الہندوستان ہے ان کا بلوچستان یا بلوچیت سے تعلق نہیں، ریاست واضح بتارہی ہے کہ یہ فتنہ الخوارج ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، غیرقانونی افغان مقیم باشندوں کو پاکستان سے اٹھا کر باہر پھینکیں گے، دنیا میں کوئی مائی کا لعل پیدا نہیں ہوا جو پاکستان کو دھمکا سکے، پاکستان اور بلوچستان یہاں ہے اور ہمیشہ رہے گا، ہر دہشتگرد اور ان کے تمام سہولتکاروں کا پیچھا کریں گے، تم ہمارے بچوں اور شہریوں پر ہاتھ ڈالتے ہو اور سمجھتے ہو ہم آکر بات چیت کریں گے، عوام، فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر لمحے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ہر صورت ہمیں کامیابی حاصل ہوگی کیونکہ ہم حق اور سچ پر کھڑے ہیں
