گرفتارافغان دہشتگرد نےٹی ٹی اےکیساتھ مل کر پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں پرحملوں کا اعتراف کیا ہے
گرفتار دہشتگرد کا بھائی شیر افغان بھی ٹی ٹی پی سے وابستہ اورپکتیکا کا رہائشی ہے ،دہشتگرد گروپ کی قیادت “مسلم” نامی شخص کر رہا تھا،گرفتارافغان دہشتگرد نے پاک افغان جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کےاہلکاروں کو نشانہ بنایا ،گرفتار افغان دہشتگردحبیب اللہ پہلے بھی ایک ماہ قید میں رہا،کئی دہائیوں سے ایک سازش کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی گئی ،پاکستان اپنےشہریوں کے تحفظ کیلئےافغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پرحملہ کررہا ہے ،افغانستان کے عوام کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ،پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان نےمتعدد بارافغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےکے ٹھوس ثبوت فراہم کیے،
حکومتِ پاکستان نے بارہا افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےسےروکنےکامطالبہ کیا ،حبیب اللہ اس سے قبل بھی گرفتار ہوا مگر جذبہ خیر سگالی کے تحت عام شہری سمجھ کر چھوڑ دیا گیا مگرفتاردہشتگرد کوکُچلاک کےعلاقے سےدوبارہ گرفتارکیا گیاجس سےسرحدپاردہشتگردی کےروابط بے نقاب ہوئے ،ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مل کر بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کررہے ہیں،اس گروپ کے دوسرے دہشتگردوں کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے
