خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں
بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ قلات میں ڈرون حملے کے نتیجے میں اس کے پانچ جنگجو مارے گئے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عبدالاحد، اسرار احمد، شعیب احمد، عبیداللہ سیاہ پاد اور فیصل بدینی شامل ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال اس کارروائی یا جانی نقصان کی کوئی سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے بھی حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے نوکنڈی میں کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 179 افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ آپریشن سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نقل و حرکت سے متعلق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو معمول کی چیکنگ اور نگرانی کے دوران روکا گیا۔ تمام زیر حراست افراد کے پاس درست سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس کے بعد انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں گرفتار افغان شہریوں کو تصدیق اور رجسٹریشن کے لیے مخصوص مرکز منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اسکریننگ اور دستاویزی عمل امیگریشن قوانین کے تحت جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی سرحدی داخلے کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب نے اوکاڑہ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک کارندے کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ملزم کے قبضے سے انتہاپسند لٹریچر اور پروپیگنڈا مواد برآمد ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس کے کالعدم تنظیم کے لیے بھرتی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک اور روابط کا پتہ چلایا جا سکے۔
لکی مروت میں نورنگ تھانے کی حدود میں شیرکالا موڑ کے قریب عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ایک بچہ شہید جبکہ ایک شہری زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ شہید ہونے والا بچہ سب انسپکٹر امتیاز خان کا کمسن بیٹا تھا، جبکہ زخمی شخص ان کا بھائی ہے۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شہید بچہ مکمل طور پر معصوم تھا اور اس کا کسی قسم کے تنازع سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پہاڑپور میں ضلعی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ کارروائی کے دوران 21 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائی تھی جس میں مختلف علاقوں میں بیک وقت چھاپے اور سرچ آپریشن کیے گئے، جن میں سیدو والی، برز والی، علی ونڈا، چندہ، کلی ونڈا، گڑھ پیر امام شاہ، گلوٹی اور پنیالہ شامل ہیں۔ آپریشن کی نگرانی سینئر پولیس اور سی ٹی ڈی افسران نے کی، جبکہ البرق فورس، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران بین الصوبائی سرحد کے قریب پہاڑی علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں گھیراؤ اور سرچ آپریشن کے دوران 21 افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں مبینہ سہولت کار بھی شامل ہیں۔ تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سب ڈویژن حسن خیل کے دہشت گردوں نے بازرگئی گاؤں کے علاقے سے سیکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے، جن کی قیادت اعزاز عرف عمر عثمان کر رہا تھا، سیکیورٹی فورسز کے لانس نائیک ریحان کو اس وقت اغوا کیا جب وہ چھٹی پر اپنے گھر موجود تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اغوا کے بعد اہلکار کو پہاڑی علاقے کی طرف لے جایا گیا۔ اس واقعے سے مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے مغوی اہلکار کی بازیابی کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ مقامی عمائدین بھی سیکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر محفوظ رہائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دہشت گردوں نے بنوں میں کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) کے علاقے پر راکٹ حملہ کیا جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق راکٹ سی ایم ایچ کے قریب کنوائے گراؤنڈ کے علاقے میں ایک خالی احاطے میں گرا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، لیکن کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ راکٹ سے قریبی تنصیبات کو بھی کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ بم ڈسپوزل اور تحقیقاتی ٹیموں نے بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور شہر میں حساس مقامات کے گرد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
میران شاہ میں دہشت گردوں کے حملے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا ایک اہلکار شہید ہو گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی آپریٹر عمر نیاز کو منگل کے روز ان کی رہائش گاہ کے قریب مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ شدید زخمی حالت میں عمر نیاز کو قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کا تعلق شمالی وزیرستان کے گاؤں دندے درپا خیل سے تھا۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ ٹارگٹڈ تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
