Baaghi TV

بیٹیاں آخر کہاں محفوظ ہیں؟تحریر:شمسہ رانی

ذرا اس باپ کے دل میں اتر کر دیکھیے ۔جس کی پانچ سالہ بیٹی 14 دن سے لاپتہ ہے۔ وہ گلیوں، بازاروں اور دروازوں پر اپنی بچی کا نام پکارتا پھرتا ہے ۔ہر بار یہی دعا کرتا ہے یا اللہ میری بیٹی مجھے صحیح سلامت مل جائے۔ مگر پند رہویں دن اگر وہی باپ اپنی معصوم بیٹی کو کسی کنویں سے بے جان حالت میں پائے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی ؟ یہ سوال الفاظ سے نہیں صرف درد سے سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ صرف ایک بچی کا سانحہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک ایسا سوال ہے ۔جس سے ہم نظر یں نہیں چرا سکتے ۔اخر ہماری بیٹیاں محفوظ کہاں ہیں ؟ اجنبیوں سے بچائیں تو کبھی اپنے ہی جاننے والے خوف بن کر سامنے ا جاتے ہیں۔ رشتہ دار، ہمسائے، شناسا جب اعتماد کے رشتے ہی زخم دینے لگیں تو والدین اپنی بچیوں کو کس حصار میں رکھیں۔؟
ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت انسان کے کام سیکھ رہی ہے ۔ مگر افسوس کہ انسان خود انسان کا درد بھولتا جا رہا ہے۔ مشینوں میں ذہانت بڑھ رہی ہے اور انسانوں میں احساس کم ہوتا جا رہا ہے ۔ایک ننھی بچی کے درد کو محسوس نہ کر سکنے والا انسان اخر کس ترقی پر ناز کرے۔
آج ہر باپ کی انکھ میں ایک ہی سوال ہے ۔( ہم اپنی بیٹیوں کو کہاں لے کر جائیں)

اس سوال کا جواب صرف حکومت یا قانون نے نہیں ہم سب نے دینا ہے ۔ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں معصومیت خوف کے سائے میں نہیں تحفظ کے حصار میں پروان چڑھے۔
بیٹی کسی ایک گھر کی ذمہ داری نہیں۔ پوری انسانیت کی امانت ہے۔ اگر ہم نے اج بھی انکھیں نہ کھولیں تو کل شاید ہمارے پاس انسو تو ہوں گے مگر معصومیت بچانے کے لیے وقت نہیں ہوگا۔

More posts