بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں انتظامیہ نے تقریباً 70 سال پرانی مسجد کو شہیدکردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق انتظامیہ نے اہلِ علاقہ کو مسجد سیل کرنے کی ہدایت کے بعد پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں مسجد کی مسماری کی کارروائی کی۔ مقامی عدالت نے گزشتہ ماہ مسجد کو سرکاری اراضی پر غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ مسلم فریق کی جانب سے دائر اپیل بھی مسترد کردی گئی تھی۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کی مسماری کی مخالفت کرتے ہوئے انتظامیہ کے اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد 1911ء سے بھی پہلے قائم تھی اور مقدمے میں اوقاف بورڈ کو فریق نہیں بنایا گیا۔
سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقراء حسن نے بھی کارروائی پر ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہیں سہارنپور جانے سے روکنے کے لیے گھر میں نظر بند کیا گیا۔دوسری جانب بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے اتر پردیش میں مساجد کی مسماری پر تنقید کرتے ہوئے حکومت سے کارروائیاں فوری طور پر روکنے اور تمام تنازعات کو قانونی طریقہ کار کے تحت حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
