بھوبال: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع رائے سین میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جہاں ایک 70 سالہ بزرگ کو بیٹے کے مبینہ تعلق کی وجہ سے ہجوم نے اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے زبردستی پیشاب پینے پر مجبور کر دیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شخص، بہاری بنجارہ، گاؤں اگاریا مارکھو کا رہائشی ہے۔ اس پر حملہ اس وقت کیا گیا جب اس کے بیٹے نے مبینہ طور پر ہمسایہ ضلع ودیشا کے علاقے شمش آباد کی ایک خاتون کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش کی۔شکایت کے مطابق 10 سے 12 افراد پر مشتمل گروہ نے پہلے بنجارہ کے گھر پر دھاوا بولا، اسے اور اس کی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، پھر بزرگ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں اسے تقریباً 150 کلومیٹر دور ضلع راج گڑھ کے علاقے بیاورا منتقل کیا گیا جہاں اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بوتل میں پیشاب پلا دیا گیا۔
متاثرہ بزرگ نے بیان میں کہا،“انہوں نے مجھے بری طرح مارا پیٹا اور زبردستی پیشاب پلایا۔ میں انصاف چاہتا ہوں۔”واقعے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ملزمان نے اس تمام عمل کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی، جس سے متاثرہ خاندان کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔اہل خانہ کے مطابق ابتدائی طور پر پولیس نے کارروائی نہیں کی۔ بنجارہ کی بہو گیتا بائی نے الزام لگایا کہ ملزمان نے نہ صرف ان کے سسر کو اغوا کیا بلکہ گھر والوں کو بھی دھمکیاں دیں۔بعد ازاں متاثرہ شخص بھوبال پہنچا اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو باقاعدہ درخواست دے کر وائرل ویڈیو بطور ثبوت پیش کی، جس کے بعد کیس نے توجہ حاصل کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف اضلاع کی پولیس مشترکہ کارروائی کر رہی ہے۔ ایس ڈی او پی پرتیبھا شرما کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا
