مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے بجلی کے بڑھتے نرخوں، آئی پی پیز کو اربوں روپے کی ادائیگیوں، کیپیسٹی چارجز اور ایل این جی کی ناقص منصوبہ بندی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں نے عوام کو مہنگی بجلی، بھاری بلوں اور لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے، جبکہ انہیں بیرونی دوروں اور نمائشی سرگرمیوں سے فرصت نہیں، عوام بجلی کے بل دیں یا گھروں کا چولہا جلائیں، حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں۔
حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سال میں آئی پی پیز کو 13.397 کھرب روپے ادا کیے گئے، جن میں 7.275 کھرب روپے فراہم کردہ بجلی کی قیمت جبکہ تقریباً 6.4 کھرب روپے کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں دیے گئے۔ ایسے پلانٹس کو بھی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں جو بجلی پیدا نہیں کرتے۔ تقریباً 46 ہزار میگاواٹ نصب شدہ صلاحیت کے باوجود لوڈشیڈنگ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی ہے، ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث تقریباً 5,500 میگاواٹ کے پاور پلانٹس بند رہے، جس سے بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا۔ حکومت کی بروقت ایل این جی خریداری میں ناکامی عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
حافظ طلحہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ مہنگی بجلی سے تنگ عوام نے اپنی جمع پونجی سے سولر سسٹم لگائے تو حکومت نے نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرکے اضافی بجلی کی خریداری کے نرخ کم کر دیے، جو عوام کی حوصلہ شکنی ہے، حکمران بیرونی دوروں اور پروٹوکول پر وسائل خرچ کر رہے ہیں جبکہ عوام بھاری بجلی کے بلوں تلے دبے ہوئے ہیں۔ حکومت آئی پی پیز معاہدوں اور کیپیسٹی چارجز کا فوری فرانزک آڈٹ کرائے، غیر پیداواری ادائیگیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنا بند کرے، ایل این جی بحران حل کرے اور سولر صارفین کو ریلیف دے۔ عوام کو مسلسل مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں میں جکڑ کر حکمران اپنی عیاشیوں کا دفاع زیادہ دیر نہیں کر سکتے۔
