Baaghi TV

جاپان میں غیر ملکیوں کے لیے قوانین مزید سخت

ٹوکیو: جاپان میں غیر ملکی شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور امیگریشن قوانین میں حالیہ سختیوں نے وہاں طویل عرصے سے مقیم افراد کو مستقبل کے حوالے سے تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ بعض غیر ملکیوں کا کہنا ہے کہ بدلتے قوانین اور بڑھتی فیسوں کے باعث اب جاپان میں مستقل قیام کا فیصلہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔

جاپان اپنے خوبصورت باغات، جدید شہروں، منفرد ثقافت اور شاندار کھانوں کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسی طرح ملازمت اور تعلیم کے لیے بھی گزشتہ برس بڑی تعداد میں غیر ملکی جاپان منتقل ہوئے، تاہم حالیہ عرصے میں حکومت نے غیر ملکی شہریوں سے متعلق متعدد قوانین سخت کیے ہیں۔حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر سے مختلف ویزا فیسوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے والوں کو اب 2 لاکھ ین، تقریباً 1,257 ڈالر، ادا کرنا ہوں گے، جو سابقہ فیس سے تقریباً 20 گنا زیادہ ہے۔ ورک اور اسٹوڈنٹ ویزا کی فیسوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔نئے ضوابط کے تحت جاپان میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے آمدنی کی شرط مزید سخت کردی گئی ہے۔ اکتوبر سے درخواست گزاروں کی آمدنی جاپانی اوسط گھرانوں کی آمدنی سے زیادہ ہونا ضروری ہوگی۔اگلے سال اپریل سے مستقل رہائش کے امیدواروں کے لیے پنشن فنڈ سے متعلق اضافی شرائط بھی لاگو ہوں گی، جبکہ انہیں جاپانی زبان کے درمیانے درجے کے معیار پر بھی پورا اترنا ہوگا۔

جاپان کے وزیر انصاف ہیروشی ہیراگوچی کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد ایسا منظم معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں غیر ملکی اور جاپانی شہری باہمی طور پر ہم آہنگ ہوکر رہ سکیں۔

جاپانی حکومت نے رواں سال غیر ملکی کاروباری افراد کے لیے بھی قوانین سخت کیے ہیں۔ بزنس مینیجر ویزا کے لیے درکار کاروباری سرمایہ 50 لاکھ ین سے بڑھا کر 3 کروڑ ین کردیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اس بڑی تبدیلی سے بعض غیر ملکی کاروباری افراد شدید متاثر ہوئے ہیں اور کئی کاروباروں کے لیے جاپان میں رہنا اور کام جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ بعض بھارتی اور نیپالی ریسٹورنٹ مالکان نے بھی ویزا تجدید مسترد ہونے کے بعد کاروبار بند کیے ہیں۔

جاپان میں غیر ملکی رہائشیوں کی تعداد گزشتہ سال ریکارڈ 41 لاکھ تک پہنچ گئی، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 3.4 فیصد ہے۔ چین کے شہری سب سے بڑا غیر ملکی گروپ ہیں، جن کی تعداد 9 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جبکہ تقریباً 70 ہزار امریکی شہری بھی جاپان میں مقیم ہیں۔حکومت کی جانب سے قوانین سخت کرنے کی ایک وجہ بعض غیر ملکیوں پر عوامی ہیلتھ انشورنس کی ادائیگی سے گریز اور جائیدادوں کی قیمتیں بڑھانے کے الزامات بھی ہیں۔ بعض افراد پر مبینہ طور پر فرضی کمپنیوں کے ذریعے رہائش حاصل کرنے کے نظام سے فائدہ اٹھانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

جاپان میں غیر معمولی سیاحتی رش بھی بعض مقامی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ سیاحوں کی بڑی تعداد، بڑھتے اخراجات اور مقامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی شکایات نے ملک میں غیر ملکیوں کے حوالے سے بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔اسی ماحول میں دائیں بازو کی سیاسی جماعت سانسی تو نے تارکین وطن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، جس کے نتیجے میں حکمران جماعت پر بھی غیر ملکیوں سے متعلق پالیسی مزید سخت کرنے کا دباؤ بڑھا۔نئے قوانین نے ایسے غیر ملکیوں کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے جو برسوں سے جاپان میں رہ رہے ہیں۔ ایک امریکی شہری، جو تقریباً 10 سال سے جاپان میں مقیم ہے اور جاپانی زبان روانی سے بولتی ہے، نے بتایا کہ مستقل رہائش حاصل کرنے کا اس کا منصوبہ اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ نئی فیس ایک غیر متوقع اور بہت بڑا اضافی خرچ ہے، جس کے لیے طویل عرصے سے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔ٹوکیو کے ایک امیگریشن وکیل کازوکی یودا کے مطابق نئے قوانین کے اعلان کے بعد ان کے دفتر میں مستقل رہائش کے حوالے سے پوچھ گچھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ نئے ضوابط نافذ ہونے سے پہلے درخواستیں جمع کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جاپان کو ایک طرف کم ہوتی آبادی اور افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ دوسری طرف غیر ملکیوں کے حوالے سے عوامی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ملک کی شرحِ پیدائش گزشتہ سال ایک دہائی کی کم ترین سطح 1.14 تک گر گئی۔ ماہرین کے مطابق آبادی کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے شرحِ پیدائش تقریباً 2.1 ہونا ضروری ہے۔ایسے حالات میں جاپان کو معیشت اور لیبر مارکیٹ کے لیے غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت ہے، لیکن امیگریشن قوانین میں سختی غیر ملکی ہنرمندوں اور کاروباری افراد کے لیے ملک کو نسبتاً کم پرکشش بنا سکتی ہے۔کئی غیر ملکی شہریوں کا کہنا ہے کہ ین کی قدر میں طویل عرصے سے کمزوری، ویزا فیس میں اضافے اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث وہ جاپان میں اپنے طویل مدتی مستقبل پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہیں

More posts