دورِ حاضر کے زخموں پر اگر نظرِ عبرت ڈالی جائے تو سمجھ آتا ہے کہ قیامت کا تقاضا کیوں کیا گیا تھا۔ ہر سو نفسا نفسی ہے ہر سمت بے حسی کا راج ہے۔ انسان سے بیگانہ ہو چکا ہے۔ رشتے بوجھ لگنے لگے ہیں اور ضمیر سو چکے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بے اختیار زبان پر آتا ہے کہ تم کس قیامت کے منتظر ہو وہ قیامت تو ہر روز ہمارے گھروں عدالتوں اور گلیوں میں برپا ہو رہی ہے۔ ماں کی گود اجڑ رہی ہے۔ بیٹی کی عزت نیلام ہو رہی ہے۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔ اور ہم سب تماشائی بن کر تالیاں بجا رہے ہیں۔ لاشیں گنتی میں آتی ہیں اور درد بے شمار رہ جاتا ہے۔ اور آخر میں بکھرتا معاشرہ دیکھ کر انسان خاموش ہو جاتا ہے۔
کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا۔ ناممکن کو ممکن کرنا ہی انسان کی اعلیٰ ظرفی ہے اور یہی ظرفی اسے اشرف المخلوقات کا تاج پہناتی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ اسی انسان نے اپنے اس مقدس تاج کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ انسانیت کو پس پشت ڈال کر درندگی کا لبادہ اوڑھ لیا گیا ہے۔ اب یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں انسان کم اور درندے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اسی درندگی کی نذر ہوئی وہ معصوم ڈیڑھ سالہ کلی جو مہکنے سے پہلے ہی مسل دی گئی۔ اسے قبر کی ٹھنڈی آغوش میں سلایا گیا مگر انصاف کی کرن آج تک اس کے گھر کا در نہیں کھٹکھٹا سکی۔ لگتا یوں ہے کہ ہمارے ہاں انصاف کا ترازو اب تولتا ہی نہیں۔ انسان لفظوں کی کتاب میں ایک مردہ عنوان بن کر رہ گیا ہے۔
چوری ڈکیتی اور زناکاری اب خبر نہیں معمول بن چکی ہے۔ بے حیائی کی لہر اس قدر بلند ہو چکی ہے کہ خونی رشتے بھی محفوظ نہیں رہے۔ ہوس نے اس قدر آنکھیں خیرہ کر دی ہیں کہ اعتبار کرنا جرم لگتا ہے۔ آخر یہ بے اعتباری کس نے سکھائی؟ بے اعتباری تو رشتوں نے نہیں سکھائی۔ بے اعتباری تب پیدا ہوئی جب ہم نے اسلامی تعلیمات کو فراموش کر دیا۔ تب رشتے بے اعتبار ہونے لگے۔ کیا اسلام نے ہمیں نہیں بتایا تھا کہ جوان بہن بھائی کے پہلو میں نہیں سو سکتی۔ کیا اسلام نے ہمیں نہیں سکھایا تھا کہ جب باپ گھر آئے تو بیٹی کے سر پر دوپٹہ ہونا چاہیے۔ کیا اسلام نے ہمیں محرم اور نامحرم کا فرق نہیں بتایا۔ تو پھر کیوں ہم اپنے گھروں میں نامحرم کو جگہ دیتے ہیں۔ کبھی بھائی بنا کر، کبھی چچا بنا کر، کبھی باپ بنا کر، کبھی سوتیلا بیٹا بنا کر۔ جب ہم نامحرم کو محرم کا لقب دیں گے تو پھر بے اعتباری تو بنتی ہے۔ ہم نے ان سب حدود کو فراموش کر دیا ہے۔ آج ہم اسلام کو چھوڑ کر دوسروں کے نظاموں میں کامیابی ڈھونڈتے ہیں۔ یاد رکھیں! جب تک ہم اللہ کی مقرر کردہ حدود کو اپنا زیور نہیں بنائیں گے ۔جب تک دینِ اسلام کے دامن کو مضبوطی سے نہیں تھامیں گے کوئی قوم سر نہیں اٹھا سکتی۔ جس دن ہم نے اپنے رب کے حکم کو سینے سے لگا لیا یہی بکھرا ہوا معاشرہ یہی گرتا ہوا انسان پھر سے اشرف المخلوقات کہلانے کے قابل ہو جائے گا۔ اور ہمارے معاشرے میں امن و امان کی بہار لوٹ آئے گی۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آغاز کرے گا کون؟سب سے مشکل پہلا قدم ہی ہوتا ہے۔ مگر جب ایک قدم اٹھ جائے تو باقی راستے خود ہموار ہونے لگتے ہیں۔ آغاز اپنے گھر سے کریں۔ بچوں کو حدود سکھائیں۔ میں نے اپنے حصے کا چراغ روشن کر دیا ہے اب باری آپ کی ہے۔ اب فیصلہ کرنے کی گھڑی آپ پر ہے کہ آپ نے بکھرتا معاشرہ دیکھ کر خاموش تماشائی بننا ہے یا پھر عمل پیرا ہو کر انسانیت کی معراج کو بلند کرنا ہے۔
