وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
ترجمہ:
اور اس فتنے سے ڈرو جو تم میں سے صرف ان لوگوں کو نہیں پہنچے گا جنہوں نے ظلم کیا، اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
(سورۃ الانفال: 25)
بس یہی وہ تنبیہ ہے جس پر آج ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ شاید ہم ایسے ہی اجتماعی امتحانات اور آزمائشوں کے دور سے گزر رہے ہیں۔ کتنے ہی بے گناہ ہمارے سامنے زندگی سے محروم ہو رہے ہیں؛ کبھی گولی کا نشانہ بن کر، کبھی حادثات کی نذر ہو کر، کبھی قدرتی آفات اور ناگہانی واقعات میں، کبھی قتل و غارت کے ذریعے اور کبھی ایسی بیماریوں کے ہاتھوں جن کے نام تک ہم نے پہلے نہیں سنے تھے۔
انسان مرے جا رہا ہے، مگر ایک سوال مسلسل ہمارے ضمیر کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے:
آخر ان بے گناہوں کا قصور کیا تھا؟
قرآنِ مجید کی یہ آیت ہمیں ایک نہایت اہم اجتماعی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ جب معاشرے میں ظلم، ناانصافی، جبر، قتل و غارت، بدعنوانی، بے راہ روی اور حق سے انحراف عام ہو جائے، اور اہلِ حق برائی کے خلاف آواز اٹھانے سے گریز کریں، یا حق کی آواز بلند کرنے والوں کو خاموش کرا دیا جائے، تو اس کے نتائج صرف ظالموں تک محدود نہیں رہتے۔
فتنہ جب اجتماعی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کی لپیٹ میں بے گناہ بھی آ سکتے ہیں۔
یہی شاید سب سے بڑا المیہ ہے کہ ظلم کرنے والا ایک شخص ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات پوری بستی، پورے معاشرے اور بعض اوقات پوری نسل کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ ظالم کا ہاتھ چند افراد تک پہنچتا ہے، لیکن ظلم کا سایہ بہت دور تک پھیل جاتا ہے۔
ہم اکثر کسی سانحے کے بعد افسوس کرتے ہیں، تعزیتی بیانات جاری کرتے ہیں، چند دن سوگ مناتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف افسوس کافی ہے؟
کیا ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم لاشیں گنیں، تصاویر شیئر کریں، تعزیتی پیغامات لکھیں اور چند دن بعد سب کچھ بھول جائیں؟
نہیں!
وقت ہم سے اس سے کہیں زیادہ کا تقاضا کرتا ہے۔
ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ ہمیں حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے معاشرے میں ناانصافی، جبر اور زیادتی کو معمول بننے سے روکنا ہوگا۔ کیونکہ خاموشی کبھی کبھی ظلم کی طاقت بن جاتی ہے، اور بے حسی ظالم کے لیے سب سے بڑا سہارا ثابت ہوتی ہے۔
میرے صحافتی سفر کے شاید یہ سب سے مشکل الفاظ ہیں۔
آج قلم ہاتھ میں تھا، مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ آنکھوں میں نمی تھی، دل میں درد تھا اور ذہن میں صرف ایک سوال بار بار گونج رہا تھا:
آخر ان بے گناہوں کا قصور کیا تھا؟
کب تک ہم صرف لاشیں گنتے رہیں گے؟
کب تک تعزیتی بیانات جاری ہوتے رہیں گے؟
کب تک چند دن کا سوگ منا کر ہم سب کچھ بھولتے رہیں گے؟
کب تک مظلوم انصاف کی امید میں دروازے کھٹکھٹاتے رہیں گے؟
یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں، ہم سب سے ہے۔
کیونکہ معاشرہ صرف حکومت، اداروں یا چند افراد کا نام نہیں۔ معاشرہ ہم سب سے مل کر بنتا ہے۔ اگر ہم اپنے حصے کی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو ظلم کے خلاف جنگ کبھی مکمل نہیں ہوگی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں کا محاسبہ کریں۔ جہاں ظلم دیکھیں وہاں کم از کم اپنے ضمیر میں اسے ظلم تسلیم کریں، جہاں ناانصافی ہو وہاں حق کی بات کریں، جہاں کسی مظلوم کی آواز دبائی جا رہی ہو وہاں اس کی آواز بنیں، اور جہاں معاشرہ بے حسی کا شکار ہو رہا ہو وہاں انسانیت کا چراغ روشن کریں۔
یاد رکھیے، فتنہ صرف ظالموں کو نہیں پکڑتا۔
اس لیے ظلم کے خاتمے کی ذمہ داری صرف ظالم کو سزا دینے تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔
آئیے، آج ہم صرف افسوس کرنے کے بجائے عہد کریں کہ ظلم کو ظلم کہیں گے، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے، حق کی آواز کو دبنے نہیں دیں گے اور اپنے معاشرے میں امن، انصاف اور انسانیت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو ظلم، فتنہ، ناانصافی، جبر اور بے حسی سے محفوظ فرمائے، مظلوموں کی مدد فرمائے، مرحومین کی مغفرت فرمائے اور ہمیں حق بات کہنے، حق کا ساتھ دینے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
