Baaghi TV

بیوروکریٹک مارشل لاء .تحریر:ملک سلمان

malik salman

انسپکٹر کی بجائے سب انسپکٹر حتیٰ کہ "ٹی ایس آئی” کو ایس ایچ او لگا کر "لوٹ کھسوٹ” کی روایت تو برسوں سے چلتی آرہی ہے لیکن پی ایس پی افسران کے معاملے میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر جونئیر بیج اور ڈی پی او سنئیر بیج کی عمومی پریکٹس رہی ہے لیکن پنجاب نے تاریخ بدل کر رکھ دی ہے سابق آئی جی عثمان انور نے دوسال قبل ہی 43کامن کو ڈی پی او لگانا شروع کردیا تھا۔ جبکہ رواں سال پہلے 44کامن کے بچوں کو ڈی پی او لگا کر انتظامی معاملات کو کمزور ہاتھوں میں دیا گیا تو اب سسٹم کو تہس نہس کرنے کیلئے رہتی سہتی کسر 45کامن کی ڈی پی او لگا کر نکال دی گئی۔ اکثر اضلاع میں ڈی ایس پی ناکارہ بن چکے کیونکہ ڈی پی او کو ایس ایچ او کے ساتھ مل کر ڈائریکٹ پیسے اکٹھے کرنے ہوتے۔پولیس میں ناکارہ ہوئے ڈی ایس پیز کیلئے سی سی ڈی اور انٹی کرپشن اختیارات اور مال پانی کی جنت بن جائے تو وہی ڈی ایس پی کیا نہیں کرے گا؟

سارا بیج ایس پی ہے لیکن سفارشی ڈی پی او
سارا بیج ڈپٹی سیکرٹری لیکن سفارشی ڈائریکٹ ڈی جی بن جاتا ہے
سارا بیج ایڈیشل سیکرٹری اور کماؤ پتر اہم پوسٹ پر
سنئیر سیٹوں پر لگائے گئے جونئیر افسران ناصرف اپنے آقاؤں کی غلامی اور جی حضوری میں انتہا کرجاتے ہیں بلکہ عام عوام کو رعایا کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں حتیٰ کہ معزز اراکین اسمبلی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے، آئے روز پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی میں ایم پی اے بتا رہے ہوتے ہیں کہ ان کی سفارش پر جس افسر نے کام کرنے سے انکار کیا تھوڑی دیر بعد وہی کام پیسوں سے کر دیا۔

چیف سیکرٹری زاہد زمان نے خود ساختہ میرٹ کے تحت 42کامن سے جونئیر افسران کو ڈی سی نہ لگانے کی ٹھان رکھی ہے۔ زاہد زمان کی یاداشت کیلئے عرض ہے کہ بزدار حکومت میں جب آپ ایس ایم بی آر تھے تو اس وقت 42کامن والے ڈی سی لگنا شروع ہوئے تھے آپ بزدار دور میں کئی سیکرٹری شپ سے لیکر ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایس ایم بی آر کی اہم پوسٹوں پر رہے اور محسن نقوی دور میں چیف سیکرٹری بن گئے اور عنقریب ایک اور بڑی سیٹ پر جانے والے ہیں لیکن 43، 44کامن اور پی ایم ایس 5والے ڈی سی کیلئے اہل نہ ہوسکے؟
ٹریننگ کے باوجود پی ایم ایس کا پروموشن بورڈ نہیں کر رہے۔
بزدار دور سے اب تک مجاہد شیردل idap پر گرپ کیے ہوئے ہے جبکہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کو اہم پوسٹنگ کیلئے ٹریننگ /اپروول سنٹر بنایا ہوا ہے۔
بزدار دور میں اہم پوسٹوں پر رہنے والے خاص طور چند ایک کے بارے زبان زد عام تھا کہ یہ صاحب کے”تونسہ والے شوق“ پورا کرنے والے ” ٹوائے” ہیں۔ وہی شوقین مزاج چند "ٹوائے بوائے” موجودہ حکومت میں بھی اہم پوسٹوں پر ہیں۔

ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی دور حکومت کی پوسٹنگ نکال کر موازنہ کرلیں، پی ٹی آئی دور میں ”اہم پوزیشن“ انجوائے کرنے اور کرپشن کے ریکارڈ توڑنے والے موجودہ حکومت میں پہلے سے بھی اچھی سیٹ پر ہیں۔ اگلے کالم میں ان فرح گوگی زدہ افسران کا تفصیلی تذکرہ ہوگا۔
گریڈ بیس لیول کی اربوں کھربوں روپے والے ورلڈ بینک فنڈد پراجیکٹس سمیت اہم سیٹوں اور اٹھارٹیز پر گریڈ 18کے کنسیپٹ کلئیر بچوں کو لگا دیا گیا ہے۔
اس پک اینڈ چوز نے بیج میٹ کو بیج میٹ کا دشمن بنا دیا ہے۔

خلاف میرٹ ٹرانسفر پوسٹنگ اور تعیناتیوں نے افسران کے درمیان نفرت کی ایسی لکیر کھینچی کہ بیج میٹ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔ key posting والے جونئیرافسران سنئیرز کا احترام بھول چکے۔
سرکاری ملازمین کی دنیا بہت چھوٹی ہے انڈرٹریننگ کے دور میں انکی غربت اور لاچاری کی کہانیاں ساتھی بیج میٹ بہت مزے سے سناتے ہیں کہ یہ جب ہمارے ساتھ ٹریننگ کیلئے آیا تو غربت کے کن حالات میں تھا۔ پھر کس پوسٹنگ میں کیا اندھیر نگری مچائی، ساتھی افسران سے ہر روز انکی نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ کس کو "سپلائی چین” کی وجہ سے پوسٹنگ ملی ہے تو کون مجرے ہوسٹ کرکے سیٹ پکی کرتا ہے۔

چند افسران کے بارے مشہور ہے کہ اگر ایک وقت میں انکا سگا باپ کال کرے اور دوسری طرف سے رشوت کے پیسوں کی ڈیل کروانے والا ٹاؤٹ تو وہ ٹاؤٹ کی کال پہلے اٹھائیں گے۔ کتا مار مہم میں ناصرف معصوم کتوں کی نسل کشی کی گئی بلکہ ان کو پہلے سے بھی زیادہ متشدد بنا دیا گیا اور اس مہم کی آڑ میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی۔
اہم سیٹوں پر ٹرانسفر پوسٹنگ کیلئے فرد واحد کی حکمرانی ختم کرکے کم از کم چھے رکنی سلیکشن ٹیم بنائی جائے جس میں متناسب تعداد میں پارلیمینٹیرین اور افسران شامل کیے جائیں جو میرٹ پر افسران کی تقرری کیلئے سفارشات مرتب کر سکیں۔

ملک سلمان
maliksalman2008@gmail.com

More posts