Baaghi TV

اسلام آباد خودکش دھماکا:کینیڈا اور یورپی یونین سمیت دیگر کی مذمت

سعودی عرب کینیڈا اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک کے سفرا نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے-

اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ پر ہونے والے ہولناک حملے کی سعودی وزارت خارجہ نے سخت مذمت کرتے ہوئے عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے، شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور معصوم شہریوں کا خون بہانے کی ہر کوشش کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا کہا کہ سعودی عرب ہر قسم کی دہشتگردی، انتہاپسندی اور تشدد کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے سعودی عرب نے شہدا کے اہل خانہ، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی۔

امام بارگاہ پر ہونے والے ہولناک حملے پر برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے انہوں نے شہدا اور زخمیوں کے اہلِ خانہ کے لیے دعائیں کیں اور اس پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔

یورپی یونین نے اسلام آباد خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اسلام آباد میں ہونے والے ہولناک خودکش حملے کی خبر سن کر ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے، یورپی یونین ہر قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی سخت مذمت کرتی ہے،ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور شہدا اور زخمیوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

سویڈن کی پاکستان میں سفیر الیگزینڈرا برگ وون لنڈے نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے حملے کی ہولناک خبر پر ہمیں گہرا دکھ ہوا ہے، ہماری گہری تعزیت اور ہمدردیاں شہدا، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اسلام آباد خود کش دھماکے کی خبر سن کر انتہائی افسوس ہوا، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوگئےآج کینیڈا کے عوام پاکستان کے عوام، شہداء، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کو اپنی دعاؤں اور خیالات میں یاد رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اسلام آباد میں خودکش حملے کی شدید مذمت

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ میں خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے انتونیو گوتریس نے شہریوں اور عبادت گاہوں پر حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور ذمہ داروں کو شناخت کر کے انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔

انتونیو گوتریس نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان سے اقوام متحدہ کی مکمل یکجہتی کا اظہار اور انتہا پسندی کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

دوسری جانب اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں وسیع کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ حکام نے اس واقعے میں ملوث افراد کی جلد گرفتاری اور ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، خودکش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے اہلِ خانہ اور معاونین کی اہم گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں بمبار کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے بھائی کو پشاور سے حراست میں لیا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور اپنے بہنوئی سے بھی رابطے میں تھاایک اہم سہولت کار کو نوشہرہ میں ہلاک کر دیا گیا، جب کہ سب سے اہم گرفتاری بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کر کے تفتیش کے لیے منتقل کیا گیا-

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی، اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے وزیرِ اعظم نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی اور کہا کہ دھماکے میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود علاج معالجے کی نگرانی کرنے کا حکم دیا۔

خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں ذرائع کے مطابق دھماکے میں چار سے چھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جبکہ خودکش حملے میں بال بیرنگ کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ تھی، جس سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور نےامام بارگاہ میں داخل ہونے سے قبل فائرنگ کی تھی اور بعد ازاں ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا خودکش بمبار نے راستے میں دو گولیاں چلائیں جبکہ اندر داخل ہو کر چھ فائر کیے تھے واقعے کے بعد جائے وقوعہ سے تمام گولیوں کے خول اکٹھے کر لیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی حاصل کر لی گئی ہے، تاکہ حملہ آور کی شناخت اور واقعے سے جڑے دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے قانون نافذ کرنے والے ادارے سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں،حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور بارودی مواد کی فراہمی سے متعلق پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے، جن میں سے 29 کی حالت تشویشناک ہے۔

More posts