بھارتی علاقے فرید آباد میں ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جہاں 28 سالہ شادی شدہ خاتون کو چلتی وین میں دو گھنٹے سے زائد تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد سڑک پر پھینک دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا۔
تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاتون رات کے وقت گھر جانے کے لیے سواری کی منتظر تھی کہ ایک وین رکی۔ وین میں سوار دو نوجوانوں نے خاتون کو گھر چھوڑنے کا جھانسہ دے کر گاڑی میں بٹھا لیا، تاہم وین گھر کی جانب جانے کے بجائے گڑگاؤں روڈ کی طرف بڑھا دی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون تقریباً ڈھائی گھنٹے تک وین میں موجود رہی جہاں ملزمان نے مبینہ طور پر بار بار زیادتی کی۔ خاتون کی مزاحمت اور احتجاج کے باوجود ملزمان باز نہ آئے بلکہ اسے دھمکیاں بھی دیتے رہے۔رات تقریباً تین بجے کے قریب ملزمان نے خاتون کو ایس جی ایم نگر کے علاقے راجہ چوک کے نزدیک چلتی وین سے سڑک پر پھینک دیا۔ واقعے کے نتیجے میں خاتون کے چہرے پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ بری طرح زخمی ہوگئی، جس سے خون بہنے لگا۔
متاثرہ خاتون نے بار بار اپنی بہن کو فون کرنے کی کوشش کی، بعد ازاں بہن کی جانب سے واپسی کال پر واقعے کی اطلاع ملی۔ اہلِ خانہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور خاتون کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کے چہرے پر 10 سے 12 ٹانکے لگائے۔ ڈاکٹروں کے مطابق خاتون کی حالت اب مستحکم ہے تاہم وہ شدید صدمے کی کیفیت میں ہے، جبکہ اس کا بیان تاحال قلمبند نہیں کیا جا سکا۔متاثرہ خاتون کی بہن نے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں بتایا کہ واقعے سے ایک روز قبل شام تقریباً 8:30 بجے خاتون نے فون کر کے بتایا تھا کہ اس کا اپنی والدہ سے جھگڑا ہوا ہے اور وہ ایک دوست کے گھر جا رہی ہے، اور تین گھنٹوں میں واپس آ جائے گی۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون شادی شدہ ہے، اس کے تین بچے ہیں اور گھریلو تنازع کے باعث وہ اپنے شوہر سے علیحدہ رہتی ہے۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی وین بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
