چمن: بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ ضلع چمن کے حلقہ پی بی-51 سے منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کے حلقے میں رواں مالی سال کے دوران 30 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1 ارب 19 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان منصوبوں پر مجموعی پیش رفت صرف 45 فیصد تک پہنچ سکی ہے۔
ذرائع کے مطابق مختص فنڈز کے باوجود متعدد اہم منصوبے، خصوصاً سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور سیوریج سے متعلق اسکیمیں، مطلوبہ رفتار سے مکمل نہیں ہو سکیں، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت، نکاسیٔ آب اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی محرومیوں کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری منتخب عوامی نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری ہونے والے فنڈز کو شفاف انداز میں اور مکمل دیانتداری کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو علاقے میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حلقہ پی بی-51 میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کا شفاف آڈٹ کرایا جائے، فنڈز کے مؤثر اور درست استعمال کو یقینی بنایا جائے، منصوبوں کی سست روی کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور ہر منصوبے کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن جاری کی جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
