Baaghi TV

چکن سمیت اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

پاکستان کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے عام شہریوں کی زندگی مزید مشکل کر دی ہے۔ مارکیٹوں میں دکانداروں کی جانب سے قیمتیں از خود بڑھانے کے رجحان نے مہنگائی کو غیر معمولی سطح تک پہنچا دیا ہے۔لاہور میں چکن کی قیمتیں سرکاری نرخ 595 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 630 روپے تک فروخت ہو رہی ہیں۔ انڈوں کی قیمتیں بھی بڑھ کر 232 روپے درجن تک پہنچ گئی ہیں۔ علاوہ ازیں، مختلف پھلوں کے نرخوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس سے عام صارفین کی خریداریاں محدود ہو گئی ہیں۔

راولپنڈی میں بھی مہنگائی کی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔ زندہ مرغی کی قیمت بڑھ کر 470 روپے فی کلو اور گوشت کی قیمت 650 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ شہری اب روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔پشاور میں ایک دن کے اندر مرغی کی قیمت میں 35 روپے فی کلو اضافہ ہوا، جس کے بعد زندہ مرغی کے نرخ 455 سے بڑھ کر 490 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ گوشت کی قیمت بھی 780 روپے فی کلو ہو گئی، جس نے عوام کی خریداری کی طاقت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مارکیٹ میں سپلائی چین کے مسائل، بڑھتی ہوئی پیداوار کی لاگت اور دکانداروں کی منافع خورانہ رویے کی وجہ سے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور مارکیٹ میں ریگولیشن سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس وقت عام آدمی کے لیے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے، اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اشیاء کی قیمتوں میں اس رفتار سے اضافہ جاری رہا تو ملک میں معاشی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

More posts