مودی حکومت کو کشمیری طلبہ کی تعلیمی قابلیت بھی کھٹکنے لگی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک اہم میڈیکل کالج اس وقت بند کر دیا گیا جب داخلوں میں میرٹ کی بنیاد پر زیادہ تر نشستیں مسلمان طلبہ کو مل گئیں۔ الجزیرہ کے مطابق ماتا وشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی منظوری منسوخ کر دی گئی، جسے خطے میں میڈیکل تعلیم کا ایک نمایاں ادارہ سمجھا جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کالج کی 50 میں سے 42 نشستوں پر مسلمان طلبہ میرٹ پر کامیاب ہوئے، جبکہ سات ہندو اور ایک سکھ طالب علم کو بھی داخلہ ملا۔ مسلمان طلبہ کی زیادہ تعداد پر ہندو انتہا پسند گروہوں نے احتجاج کیا، جس کے بعد ادارے کے خلاف کارروائی کی گئی۔
کشمیری طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے ان سے ان کا مستقبل اور خواب چھین لیا ہے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ بی جے پی میرٹ کے بجائے مذہب کی بنیاد پر داخلے چاہتی ہے۔ والدین نے بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں نے میرٹ پر آنے کے لیے برسوں محنت کی تھی۔
مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کشمیری طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا طلبہ کا مستقبل تباہ کرنا حکمرانوں کو خوشی دیتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق انتہا پسند ہندو عناصر عطیات سے چلنے والے اس ادارے میں مسلمانوں کا داخلہ برداشت نہیں کر سکے۔ نیشنل میڈیکل کمیشن نے انفراسٹرکچر کو جواز بنا کر کالج کی منظوری منسوخ کر دی، جسے مبصرین مسلم دشمن پالیسیوں کی ایک اور مثال قرار دے رہے ہیں۔
میرٹ پر مسلمان طلبہ کی کامیابی مودی سرکار کو ناگوار
