پشاور: وزیر اعلی ہاؤس خیبر پختونخوا سے معلومات لیک ہونے کے معاملے پر سی ایم ہاؤس کے 80 اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تعینات عملے کو تبدیل کیا گیا یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب اندرونی معاملات اور حساس معلومات کے مسلسل لیک ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا،سپیشل برانچ کا عملہ طویل عرصے سے ایک ہی جگہ تعینات تھا جس کے باعث اندرونی سرگرمیوں کی تفصیلات باہر پہنچ رہی تھیں، بعد ازاں جاری کیے گئے ایک اور اعلامیے میں فرنٹیئر ریزرو پولیس کے اہلکاروں کی بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی کی گئی۔
53 اہلکار اسپیشل برانچ اور 27 اہلکار ایف آر پی کے تبدیل کر دیے گئے ذرائع سی ایم ہاؤس کے مطابق پولیس لائن اور سیکیورٹی یونٹ سے نئے اہلکار سی ایم ہاؤس تعینات کر دیے گئے ہیں،عید سے قبل ٹرانسفر ہونے والے اہلکار الاؤنس سے بھی محروم ہوگئے-
دبئی، کویت اور دوحہ میں میزائل اور ڈرون حملے
ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید تبدیلیاں بھی متوقع ہیں، حکام کے مطابق نئے تعینات کیے جانے والے اہلکاروں کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط برتی جا رہی ہے، اور اب یہ عمل موجودہ قیادت اور ان کی ٹیم خود نگرانی میں مکمل کرے گی تاکہ معلومات کے اخراج کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد وزیر اعلیٰ ہاؤس کی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، انتظامی امور کو بہتر کرنا اور حساس معلومات کی مکمل رازداری کو یقینی بنانا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں سکیورٹی اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے سپیشل برانچ اور فرنٹیئر ریزرو پولیس (ایف آر پی) کے اہلکاروں کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ایران کے اسرائیل پر 100 سے زائد اہداف پر حملے، 200 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
