اسلام آباد: اٹک ریفائنری کے لیے خام تیل لے جانے والے ٹینکرز کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد تیل کی سپلائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق پابندی کے خاتمے سے ملک کے شمالی علاقوں میں ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ ریفائنری ذرائع کا کہنا ہے کہ خام تیل کی فراہمی بحال ہونے کے بعد پیداوار جلد شروع ہونے کی توقع ہے، جس سے مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی بہتر ہوگی۔
اس سے قبل خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث اٹک ریفائنری کی بندش کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، جبکہ جیٹ فیول کی قلت کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے۔ ریفائنری حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر ٹریفک پابندیاں فوری طور پر نہ ہٹائی گئیں تو آپریشنز معطل کرنا پڑ سکتے ہیں۔مزید برآں، ریفائنری کی ممکنہ بندش کے باعث اسلام آباد اور پشاور کے ایئرپورٹس پر جیٹ فیول کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جو اب پابندی ختم ہونے کے بعد کم ہو گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کی بحالی سے نہ صرف مقامی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ مستقبل میں ایسے بحران سے بچنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
