سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کا کبل گرام ضلع شانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی زیر قیادت، مقامی پولیس شانگلہ اور ایلیٹ فورس نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا اور مؤثر جوائنٹ آپریشن کیا آپریشن کبل گرام کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الخوارج (FAK) کے تشکیل شدہ گروہ کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کیا گیا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم قومی منصوبوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے تھے۔
خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ انتہائی مطلوب دہشت گرد قدرتی غاروں میں پناہ لیے ہوئے تھے، جنہیں مقامی سطح پر سہولت کاری میسر تھی۔ یہ گروہ ماضی میں چینی باشندوں پر ہونے والے VBIED حملوں میں بھی ملوث رہے ہیں اور شاہراہِ ریشم سے نزدیکی کے باعث یہ سٹرٹیجک روڈ کوریڈور اور چینی منصوبوں کے لیے مستقل خطرہ تھے۔
اسی کے پیشِ نظر گزشتہ روز سی ٹی ڈی اور ڈسٹرکٹ پولیس نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت آپریشن کا آغاز کیا جب پولیس غاروں میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کی طرف بڑھی تو دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں تین (03) دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں نور اسلام عرف سلمان عرف خوگ بچہ ولد زمان ولی ساکن کبل گرام شانگلہ میں فتنۃ الخوارج کا سرغنہ تھا، جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔
اسی طرح ایک نامعلوم دہشت گرد جس کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ تیسرے دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ان تین دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد بقیہ شرپسندوں نے ایک ڈھلوان کے نیچے پناہ لی جہاں اُنہیں براہِ راست نشانہ بنانا مشکل تھا سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کے جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت دکھاتے ہوئے جب گرفتاری کے لیے پیش قدمی کی، تو دہشت گردوں کے دیگر ساتھیوں نے آر پی جی RPG اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا تاکہ اپنے ساتھیوں کو فرار کا راستہ فراہم کر سکیں مگر سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی سے اس حملے کو پسپا کر دیا۔
تاہم فرض کی راہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے پولیس کے تین جوانوں نے اس آپریشن میں جامِ شہادت نوش کیا جسمیں ایل ایچ سی مقبول احمد نمبر 438، ایل ایچ سی فدا حسین اور ایل ایچ سی سعید الرحمان شامل ہیں اور اس کے علاوہ ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوا جو زیرِ علاج ہے۔

شہید پولیس جوان
کبل گرام میں اس منظم نیٹ ورک کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ گروہ خطے کے سٹرٹیجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ علاقے میں سرچ آپریشن اور سیکیورٹی فورسز کی نگرانی بدستور جاری ہے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے آپریشنز میں شہید اور زخمی جوانوں کی ہمت کی داد دیتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور ہمیشہ قوم کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔
