Baaghi TV

دلیل کے پاس سچ نہیں ہوتا،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

ہم نے سچ کو بھی عجیب طرح کی چیز بنا دیا ہے۔ جس کے پاس زیادہ دلیل ہو، ہم فوراً اسے سچا سمجھ لیتے ہیں۔ بحث میں کوئی شخص دس حوالے دے دے، چند واقعات گنوا دے، اپنی بات کے حق میں اعداد و شمار پیش کر دے تو ہم سمجھتے ہیں کہ فیصلہ ہو گیا؛ سچ ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

مجھے ہمیشہ یہ بات عجیب لگتی ہے کہ انسان دلیل کو سچ کا درجہ کیوں دے دیتا ہے، حالانکہ سائنس خود ہمیں بار بار یہ سکھاتی ہے کہ آج کی درست ترین بات بھی کل ایک بہتر وضاحت کے سامنے بدل سکتی ہے۔

کبھی انسان سمجھتا تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اس کے پاس اس یقین کے لیے مشاہدات بھی تھے، حساب بھی تھا اور صدیوں پر پھیلی ہوئی علمی روایت بھی۔ پھر ایک دن انسان نے اپنی ہی آنکھ کے یقین پر شک کیا۔ نظریہ بدلا، کائنات کو دیکھنے کا زاویہ بدلا اور وہ حقیقت جسے کبھی ناقابلِ تردید سمجھا جاتا تھا، تاریخ کا حصہ بن گئی۔

پھر نیوٹن آیا۔ اس نے کائنات کو سمجھنے کے لیے ایسے قوانین دیے جنہوں نے صدیوں تک ہماری سوچ پر حکومت کی۔ پھر آئن اسٹائن آیا اور بتایا کہ تصویر اس سے بھی بڑی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئن اسٹائن نے نیوٹن کو جھوٹا ثابت نہیں کیا، بلکہ اس کی حقیقت کی حدود واضح کر دیں۔

یہیں سے ایک بہت اہم بات سمجھ آتی ہے۔

*نئی سچائی ہمیشہ پرانی بات کو جھوٹا ثابت نہیں کرتی، بعض اوقات وہ صرف یہ بتاتی ہے کہ پرانی بات کہاں تک درست تھی۔*

شاید انسانی زندگی میں بھی ہمارے بہت سے جھگڑے اسی غلط فہمی کی وجہ سے ہیں۔

ہم کسی شخص سے اختلاف کرتے ہیں تو اس کی بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے دلیلیں ڈھونڈتے ہیں۔ سیاست میں ہمارا پسندیدہ لیڈر جو کہے، ہم اس کے حق میں شواہد تلاش کرتے ہیں اور جسے ہم ناپسند کرتے ہیں، اس کی ایک ہی غلطی کو پورے کردار کا ثبوت بنا دیتے ہیں۔ رشتوں میں بھی یہی ہوتا ہے۔ ہمیں کسی سے محبت ہو تو اس کی خامیاں نظر انداز کرنے کے لیے دلیلیں مل جاتی ہیں، اور نفرت ہو تو اس کی اچھی بات بھی ہمیں مشکوک لگنے لگتی ہے۔

یعنی اکثر اوقات ہم سچ تلاش نہیں کر رہے ہوتے۔

ہم صرف اپنے یقین کے لیے دلیل تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔

نفسیات میں اسے *confirmation bias* کہا جاتا ہے۔ انسان عموماً وہی معلومات زیادہ آسانی سے قبول کرتا ہے جو اس کے پہلے سے موجود خیال کی تصدیق کرتی ہوں۔ باقی معلومات اسے غیر ضروری، غلط یا متعصب محسوس ہونے لگتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعہ دو لوگوں کے سامنے ہو سکتا ہے اور دونوں اس سے بالکل مختلف "سچ” نکال سکتے ہیں۔

دلیل دونوں کے پاس ہوتی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ حقیقت ایک ہوتی ہے، ہماری تشریحیں بہت سی۔

سائنس کی خوبصورتی شاید یہی ہے کہ وہ اپنے ہی یقین پر سوال اٹھانے کی اجازت دیتی ہے۔ ایک سائنسی نظریہ صرف اس لیے درست نہیں مانا جاتا کہ وہ بہت مقبول ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے مشاہدے اور تجربے کے سامنے بار بار پرکھا جا سکتا ہے۔ اور اگر کل کوئی بہتر وضاحت سامنے آ جائے تو سائنس اسے قبول کرنے سے نہیں گھبراتی۔

ہم انسان مگر اپنے نظریات سے اتنی محبت کرنے لگتے ہیں کہ دلیل غلط ثابت ہو جائے تو دلیل چھوڑنے کے بجائے حقیقت سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں:

"میں نے خود دیکھا ہے۔”

لیکن آنکھ بھی ہمیشہ سچ نہیں دیکھتی۔

دماغ بھی ہمیشہ سچ نہیں سمجھتا۔

ہماری یادداشت بھی کوئی کیمرہ نہیں کہ جو کچھ ہوا، بالکل اسی طرح محفوظ کر لے۔ دماغ معلومات کو یاد کرتے ہوئے انہیں دوبارہ تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے دو لوگ ایک ہی واقعے کو برسوں بعد مختلف انداز میں یاد کر سکتے ہیں اور دونوں کو اپنے اپنے بیان پر پورا یقین بھی ہو سکتا ہے۔

تو پھر سچ کہاں ہے؟

شاید سچ ہماری دلیلوں سے کچھ بڑا ہے۔

ہم کسی بات کو آج درست سمجھ سکتے ہیں، کل غلط بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آج ہمارا یقین لازماً جھوٹ تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ *ہماری معلومات حقیقت سے چھوٹی تھیں۔*

یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔

کیونکہ جس دن انسان یہ مان لیتا ہے کہ "میرے پاس دلیل ہے، اس لیے میں ہی سچا ہوں”، اسی دن اس کی سوچ رک جاتی ہے۔

اس کے بعد وہ سیکھتا نہیں، صرف دفاع کرتا ہے۔

اور شاید علم کی اصل ابتدا ہی وہاں سے ہوتی ہے جہاں انسان اپنی دلیل کے باوجود یہ کہنے کی ہمت پیدا کرے:

*”ممکن ہے میں غلط ہوں۔”*

یہ جملہ کمزوری نہیں، شاید انسانی عقل کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

کیونکہ دلیل ہمیں اپنے موقف پر قائم رکھ سکتی ہے، مگر شک ہمیں حقیقت کے قریب لے جاتا ہے۔

آخرکار دلیلیں انسان بناتا ہے، تجربات انسان کرتا ہے، نظریات انسان قائم کرتا ہے۔ سچ مگر ان سب سے آزاد ہوتا ہے۔

ہم اسے آج سمجھیں یا سو سال بعد،
ہم اسے دلیل سے ثابت کریں یا کسی نئی دریافت کے بعد جانیں،
وہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔

*بدلتا سچ نہیں، بدلتا صرف ہمارا علم ہے۔*

اور شاید انسان کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ اپنے محدود علم کو مکمل حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔

More posts