Baaghi TV

اور! بچپن کہاں کھو گیا؟تحریر: حماد باقر

خالقِ کائنات نے ابنِ آدم میں ایسی صلاحیت رکھی ہے کہ وہ لمحوں میں ہی بیتے سالوں کی پرانی یادوں میں جا پہنچتا ہے، جہاں ہر طرف ہنسی خوشی کا بسیرا تھا۔ گلیوں اور چوراہوں میں بچپن کے بے ساختہ قہقہے گونجتے تھے۔ صبح ہوتے ہی بیٹ، بال، گلی ڈنڈا ہاتھ میں اٹھائے معصوم چہرے ایک دوسرے کو آوازیں دیتے اور اس قدر پُرجوش نظر آتے، جیسے آج انڈیا اور پاکستان کا میچ ہو۔ لیکن آج نجانے گلیاں اور کھیل کے میدان کیوں ویران نظر آتے ہیں؟ ایک سوال لیے منتظر ہیں کہ اب وہ بچپن کہاں کھو گیا؟

بچپن کہیں نہیں گیا۔ پہلے جب بچہ تنگ کرتا تھا تو ماں اسے باہر کھیلنے کے لیے بھیج دیتی تھی لیکن اب اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جاتا ہے۔ اس ڈیجیٹل دنیا نے جہاں بہت سی سہولتیں دی ہیں، وہیں بچوں سے ان کا خوبصورت بچپن بھی چھین لیا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی طرف سے بے فکر ہو گئے ہیں کہ اب بچہ اکثر اوقات گھر ہی رہتا ہے، کیوں کہ ہم اسے موبائل پر نئے سے نئے کارٹون لگا دیتے ہیں، تاکہ وہ باہر کے خطرات سے محفوظ رہے۔

والدین ایک جانب سے تو بے فکر ہو گئے لیکن یہ دیکھنا گوارا نہیں کیا کہ ہمارا بچہ اپنا بچپن کھو رہا ہے، جس نے اس کی نشوونما کا سبب بننا تھا۔ وہ اب کہیں دور جا رہا ہے۔ گھر بے رونق ہو گئے ہیں، حالانکہ یہی وہ بچپن ہے جب بچہ آہستہ آہستہ چلنا اور کھیلنا سیکھتا تھا۔ خود عملی طور پر کوشش کرتا، گرتا، چوٹ کھاتا اور پھر کھڑا ہو جاتا۔ بچپن! آج بھی لوٹ سکتا ہے اگر والدین اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں، تاکہ وہ صحیح معنوں میں معاشرے کو باصلاحیت نوجوان دے سکیں، نہ کہ صرف اپنے بچوں کی جسمانی نشوونما میں اضافے کا باعث بن کر اپنی ضروریاتِ زندگی کے لیے بھی دوسروں کا سہارا لینے والے افراد معاشرے کے سپرد کر دیں۔ اس تیز رفتار دنیا میں، جہاں انسان ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے، صبح، دوپہر اور شام لگاتار ایک روبوٹ کی طرح بھاگتا نظر آتا ہے۔ اس رفتار میں کچھ لمحات کے لیے ٹھہر کر ماضی کی خوبصورت یادوں کو دوبارہ ذہن میں لائیں۔ جب سورج ڈھلتے ہی بچوں کا ایک گروہ کھیلنے کے لیے اپنے اپنے آشیانوں سے باہر نکل آتا تھا اور ہر کوئی اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر رات کے اندھیرے میں چھپن چھپائی کھیلتا تھا۔ رات کے وقت، اور وہ بھی چھپن چھپائی، اس کھیل کو مزید دلچسپ بنا دیتی تھی۔

بس! ضرورت اس بات کی ہے کہ خود سے ملنے اور اپنے بچوں کو ان کا بچپن لوٹانے کا احساس بھی پیدا ہو جائے۔ وقت کا کیا ہے، نکالنے پر نکل ہی آتا ہے۔

More posts