Baaghi TV

ایک کلک کا اندھیرا ،تحریر: فاطمہ زہراء

عصرِ حاضر میں دنیا نے جیسے ہی ارتقا و ترقی کی نئی منزلوں میں قدم رکھا، انٹرنیٹ اور پردۂ سیمیں کا سحر انسانی عقل و شعور پر محیط ہونے لگا۔ ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی کو آسانیوں، سہولتوں اور بے شمار امکانات سے آشنا کیا، وہیں اس کے بے احتیاط استعمال نے انسان کے سامنے ایسے مسائل بھی لا کھڑے کیے جن سے چشم پوشی اب ممکن نہیں۔ نوجوان نسل نے اسی مجازی دائرے میں اپنی مسرتوں، آرزوؤں اور تسکین کا ایک نیا جہاں آباد کر لیا ہے۔ یہ وہی دلِ ناداں ہیں جو کبھی اپنی داخلی بے چینی، حسرتوں اور ذہنی اضطراب کی تسکین کے لیے کتاب، کھیل، صحت مند مشاغل اور باہمی میل جول کا سہارا لیا کرتے تھے، مگر آج شب و روز ڈیجیٹل دنیا کے اس پیچیدہ و پُرپیچ جال میں گرفتار ہو کر رہ گئے ہیں۔

فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے ان کے سامنے ایک ایسی رنگین اور سحر انگیز کائنات کا در وا کر دیا ہے جہاں حقیقت کی ٹھوس زمین آہستہ آہستہ قدموں تلے سے سرک رہی ہے اور ایک دلکش سراب کو منزلِ مقصود سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ مجازی دنیا بظاہر دل فریب ہے، مگر اس کی تہوں میں ایسا فریب بھی پوشیدہ ہے جو انسان کو رفتہ رفتہ اپنی ذات، اپنے وقت، اپنے مقصد اور اپنے حقیقی رشتوں سے دور کرتا چلا جاتا ہے۔

مجازی دوستیوں، فرضی محبتوں اور مصنوعی دلچسپیوں کے اس ناپائیدار فریب میں الجھ کر نوجوان حقیقی رشتوں کی مٹھاس، قربت اور قدر و قیمت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ محض ایک سرسری کلک، ایک غیر محتاط رابطہ یا ایک جعلی شناخت نہ جانے کتنے معصوم نفوس کی زندگیوں کو تاریکی کے سپرد کر دیتی ہے۔ تفریح کے نام پر سجنے والی اس محفلِ فریب نے لاتعداد خاندانوں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسی چمکتی ہوئی دنیا کے پردے میں ڈیجیٹل فراڈ، جعل سازی، بلیک میلنگ اور فریب کاری کے نت نئے جال بچھائے جا رہے ہیں؛ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روشنیوں سے سجی یہ دنیا اپنے باطن میں ایک زہر آلود جال لیے بیٹھی ہو۔

اس ڈیجیٹل دنیا کا ایک نہایت خطرناک پہلو آن لائن دھوکا دہی ہے۔ آج جعل سازوں نے فریب کے ایسے راستے نکال لیے ہیں جو بظاہر انتہائی معصوم دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کسی انعام کا لالچ، کبھی ملازمت کی پیشکش، کبھی کسی عزیز کے نام سے ہنگامی پیغام، کبھی بینک یا کسی معروف ادارے کا جعلی لنک اور کبھی واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کی دعوت۔ صارف سمجھتا ہے کہ وہ محض ایک لنک کھول رہا ہے، مگر اسے کیا خبر کہ بعض اوقات ایک کلک ہنستی مسکراتی زندگیوں کے دروازے پر دستک نہیں دیتا بلکہ ان کے اندر اندھیرا اتار دیتا ہے۔

واٹس ایپ پر آنے والے نامعلوم گروپ لنکس، غیر مانوس نمبروں سے موصول ہونے والے پیغامات اور مشکوک روابط کو محض تجسس کی بنیاد پر کھول دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی اجنبی کی بھیجی ہوئی فائل، لنک یا ایپ کو بغیر تصدیق کھولنے کے بجائے پہلے بھیجنے والے کی شناخت یقینی بنانی چاہیے۔ اگر کوئی پیغام فوری کارروائی، انعام، رقم، اکاؤنٹ بند ہونے یا کسی ہنگامی صورتِ حال کا خوف پیدا کرکے آپ سے لنک کھلوانے یا معلومات فراہم کرنے کا تقاضا کرے تو یہی عجلت اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ معاملہ مشکوک ہے۔
اپنے بینک اکاؤنٹ، اے ٹی ایم، موبائل والٹ، ای میل یا کسی بھی اہم اکاؤنٹ کا پاس ورڈ، پن، او ٹی پی یا تصدیقی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے۔ محض لوگو، پروفائل تصویر، نام یا کسی ادارے کا حوالہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ سامنے والا واقعی وہی شخص ہے جس کا وہ دعویٰ کر رہا ہے۔ کسی مشکوک پیغام کی صورت میں متعلقہ ادارے سے اس کے اصل اور معلوم ذریعے کے ذریعے تصدیق کرنا ہی دانش مندی ہے۔

واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پرائیویسی اور سیکیورٹی سیٹنگز کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دو مرحلہ جاتی تصدیق فعال رکھنا، غیر ضروری گروپس میں شمولیت سے گریز کرنا، نامعلوم افراد کی درخواستوں کو قبول نہ کرنا اور مشکوک روابط یا فائلوں سے احتراز کرنا آج کے دور کی بنیادی ڈیجیٹل احتیاطیں ہیں۔ یاد رکھیے، ہر لنک قابلِ اعتماد نہیں، ہر پیغام سچا نہیں، ہر پروفائل اصلی نہیں اور ہر پیشکش آپ کے لیے نہیں۔اس بے سمت جنون نے نوجوانوں کے تن و من کی توانائیوں کو بھی دیمک کی مانند چاٹنا شروع کر دیا ہے۔ خواب، آرام، یکسوئی اور سکونِ قلب اس بزمِ مجاز کی نذر ہوتے جا رہے ہیں۔ مسلسل اسکرین دیکھنے کے باعث کم سن بچوں میں بھی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ نیند، جسمانی سرگرمی اور صحت مند معمولات ان کی زندگی سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ مائیں، جو کبھی گھر کی تعمیر، شائستگی اور اولاد کی تربیت کا تابندہ محور ہوا کرتی تھیں، وہ بھی بعض اوقات اسی جادوئی شیشے کے سحر میں ایسی گم ہو جاتی ہیں کہ آغوشِ تربیت اور گھریلو ذمہ داریوں سے غافل ہونے لگتی ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ بعض ننھے بچوں کی بھوک، خاموشی اور مصروفیت تک اسکرین کی محتاج ہو جاتی ہے۔

سوشل میڈیا کی چمک دمک میں لائکس، کمنٹس اور توجہ کے حصول کی ہوس نے انسان کو ایک ایسی بے معنی دوڑ میں محبوس کر دیا ہے جس کی کوئی حقیقی منزل نہیں۔ انسان دوسروں کی مصنوعی خوشیوں کو دیکھ کر اپنی حقیقی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، نتیجتاً ذات کے باطن میں اطمینان کے بجائے خلا، اضطراب اور احساسِ محرومی جنم لینے لگتا ہے۔

یہ مسئلہ اب محض فرد یا خاندان تک محدود نہیں رہا بلکہ قومی اور اجتماعی زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ پانچویں نسل کی جنگ، یعنی Fifth Generation Warfare، روایتی جنگوں سے مختلف نوعیت کی جنگ ہے جس میں توپ، ٹینک اور میزائل کے ساتھ ساتھ معلومات، ٹیکنالوجی، نفسیاتی دباؤ، گمراہ کن بیانیے، پروپیگنڈا اور فکری انتشار کو بھی ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ اس جنگ کا مقصد صرف سرحد پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ قوم کے ذہن، اعتماد، اجتماعی سوچ اور اداروں پر یقین کو کمزور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا اس فکری معرکے کا ایک مؤثر میدان بن چکا ہے۔ افواہوں، جعلی خبروں اور افترا پردازی کے اس بپھرے ہوئے بازار میں حق و صداقت کی متوازن آواز اکثر شور میں دب جاتی ہے۔ ایک جھوٹی خبر چند لمحوں میں ہزاروں ذہنوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ حقیقت کو ثابت کرنے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک غیر محتاط صارف محض تماشائی نہیں رہتا بلکہ انجانے میں کسی بڑے فکری معرکے کا حصہ بن جاتا ہے۔

ہمارا وطنِ عزیز بھی اس غیر مرئی معرکے کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ سائبر حملے، زہریلا پروپیگنڈا، جعلی معلومات، فکری انتشار اور مصنوعی بے اعتمادی قومی وحدت اور اجتماعی استحکام کے لیے سنجیدہ چیلنج بن سکتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے ہی ذرائعِ ابلاغ، اداروں اور ایک دوسرے پر اعتماد کھونے لگے تو دشمن کو باہر سے حملہ کرنے کی ضرورت کم پڑ جاتی ہے؛ انتشار اندر ہی سے راستہ بنا لیتا ہے۔

لہٰذا ضرورت ٹیکنالوجی سے فرار کی نہیں بلکہ اس کے شعوری استعمال کی ہے۔ نوجوانوں کو محض موبائل سے دور کرنا مسئلے کا مکمل حل نہیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ موبائل اور سوشل میڈیا کو اپنی ذات کا مالک نہیں بلکہ اپنا آلہ کیسے بنایا جائے۔ خبر آگے بڑھانے سے پہلے تحقیق، مشکوک لنک کھولنے سے پہلے تصدیق، جذباتی مواد پر فوری ردِعمل کے بجائے تحمل اور اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ کا شعور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
یاد رکھیے! پانچویں نسل کی جنگ کا ایک بڑا محاذ انسان کے ذہن کے اندر ہے۔ اور سائبر دنیا کا ایک بڑا ہتھیار ہماری اپنی جلد بازی ہے۔
کبھی کبھی زندگی بھر کی محنت برباد کرنے کے لیے کسی مجرم کو بندوق کی ضرورت نہیں پڑتی؛ اسے صرف ہماری ایک غلطی، ایک لمحے کی بے احتیاطی اور ایک کلک درکار ہوتا ہے۔
اس لیے کلک کرنے سے پہلے رکنا، سوچنا اور تصدیق کرنا محض احتیاط نہیں، آج کے ڈیجیٹل عہد میں اپنے آپ، اپنے گھر، اپنی جمع پونجی، اپنے رشتوں اور اپنی ہنستی مسکراتی زندگیوں کی حفاظت ہے۔
کیونکہ بعض اوقات ایک کلک صرف ایک لنک نہیں کھولتا، وہ ہماری پوری زندگی کا سکون بھی نگل سکتا ہے۔

More posts