آج پاکستانی قوم کو بالخصوص اور امتِ مسلمہ کو بالعموم ضرورت ہے کہ لبرل ازم، سیکولر ازم اور کیپیٹلزم جیسے مغربی نظریات کا تجزیاتی مطالعہ کرے – پاکستانیوں کے لئے مذکورہ بالا نظریات کے گہرے مطالعہ کے ساتھ ساتھ نظریہ وطنیت، متحدہ قومیت، دو قومی نظریے اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے اور اس کی ترویج ،اپنی نئی نسلوں تک کماحقہ منقلی کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرے کیونکہ عرصہ دراز سے دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کو مختلف حوالوں سے ہدفِ تنقید بنایا جارہا ہے- ساتھ ہی اس کے ایک اور لیکن اہم پہلو یہ بھی کہ دو قومی نظریہ کو مقامِ محمدِ عربی ﷺ کے تناظر میں سمجھا جائے۔
یہ موضوع محض ایک شاعرانہ تخیل، جذباتی نعرہ ،جوشِ خطابت یا قلم کی جولانیاں دکھانے کے لئے کوئی روایتی شوشہ نہیں ہے بلکہ دراصل وہ حقیقت ہے کہ جس پر ہمارے قومی وجود کی بنیاد پڑی اور کھڑی ہے۔
یہ دراصل علامہ محمد اقبال کی اس مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) اور عمرانیاتی (Sociological) فکر کا نچوڑ ہے، جو انہوں نے بیسویں صدی کے فکری بحران میں مسلم اذہان (Muslim Mind) کی کایا پلٹنے کے لیے پیش کیا تھا-
معزز قارئین ! یہ موضوع دو ایسے علمی ستونوں پر کھڑا ہے جن کا براہِ راست تعلق ہماری قومی اور انفرادی بقا اور شناخت سے ہے:
پہلا ستون:
دو قومی نظریہ— جو ہماری سیاسی اور جغرافیائی جدوجہد کی فکری اساس ہے۔
دوسرا ستون:
مقامِ محمدِ عربی ﷺ— جو اس پوری فکر کا "نقطۂ ماسکہ” (Focus) اور "مرکزِ ثقل” (Nucleus) ہے۔
مجھے یہاں اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ مغرب کے "تصورِ وطنیت” کے مقابلے میں اقبال نے جس "تصورِ ملت” کی بنیاد رکھی، اس کے تانے بانے کلمۂ طیبہ اور رسالتِ مآب ﷺ کی ذاتِ گرامی سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟
اس مقصد کےلئےسب سے پہلے ہمیں مغرب کے تصورِ وطنیت اور اس پراقبال کی تنقید کوسمجھنا ہوگا
اس موضوع کی گہرائی میں اترنے کے لیے ہمیں پہلے انیسویں اور بیسویں صدی کے اس یورپی فلسفے کو سمجھنا ہوگا جس نے "قومیت” (Nationalism) کو جنم دیا۔ رینان (Renan) اور دیگر مغربی مفکرین کے نزدیک قومیت کی بنیادیں جغرافیہ، زبان، مشترکہ معاشی مفادات اور خون کے رشتوں پر استوار ہوتی ہیں۔ مغرب نے چرچ کو ریاست سے الگ کرنے (Secularization)کے بعد مرکز ِ یک جہتی کے طور پر "وطن” کو ایک نئے خدا کے طور پر متعارف کرایا،اس کی ضرورت انہیں اس لیے پڑی کہ وہ مذہب کو انفرادی زندگی میں تو باقی رکھے ہوئے تھے لیکن اجتماعی زندگی سے خارج کر چکے تھے ،مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جا چکا تھا، لہٰذا معاشرتی یکجہتی کےلئے انہیں وطنیت کے بت کی ضرورت تھی جس کو مرکز یک جہتی بناکر لوگوں کو اس کے گرد اکٹھا کیا جا سکے۔
بیسویں صدی کے برصغیر میں اسی مغربی فلسفے کو ہندوتوا کے فکری معماروں اور متحدہ قومیت کے داعی کانگرسی علماء نے بھی اپنا لیا تھا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ "اقوام اوطان سے بنتی ہیں”۔ ہندوؤں میں دھرتی ماتا کا تصور بھی اسی تصور کا اظہار ہے۔
اس حوالہ سے علامہ اقبال رح نے "وطنیت (یعنی وطن بطور ایک سیاسی تصور کے)” لکھی، ہمارا موضوع بھی یہی ہے، "اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے” اسی نظم کاایک مصرع ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مختصر فارسی نظم بھی "حسین احمد” کے عنوان سے موجود ہے جومحض تین اشعار مشتمل ہے، ملاحظہ فرمائیے:۔
عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ
ز دیوبند حُسین احمد ایں چہ بوالعجبی است
سرود بر سرِ منبر کہ مِلّت از وطن است
چہ بے خبر ز مقامِ محمدِ عربی است
بمصطفٰی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است
(ارمغان حجاز حصہ فارسی)
لیکن حکیم الامت علامہ اقبال ، جو دورہ یورپ میں خود مغرب کے فکری سرچشموں سے سیراب ہو کر لوٹے تھے، مغرب کی تہذیب کو قریب سے دیکھ کر اس کے کھوکھلے پن کو جان چکے تھےوہ اس نظریے کی فکری تباہ کاریوں کو بھی کو بھانپ چکے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہی جغرافیائی قومیت تھی جس نے یورپ کو پہلی جنگِ عظیم کی آگ میں جھونکا اور انسان کو انسان کا خون بہانے پر مجبور کیا۔
اقبال نے اس جدید بت کی فکری جڑوں پر تیشہ چلاتے ہوئے اس تصور کو یوں بیان کیا:
اس دور ميں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور
ساقی نے بنا کی روش لطف و ستم اور
مسلم نے بھی تعمير کيا اپنا حرم اور
تہذيب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداؤں ميں بڑا سب سے وطن ہے
جو پيرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے
يہ بت کہ تراشيدہء تہذيب نوى ہے
غارت گر کاشانہء دين نبوی ہے
بازو ترا توحيد کي قوت سے قوى ہے
اسلام ترا ديس ہے ، تو مصطفوی ہے
نظارہ ديرينہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک ميں اس بت کو ملا دے !
ہو قيد مقامی تو نتيجہ ہے تباہی
رہ بحر ميں آزاد وطن صورت ماہی
ہے ترک وطن سنت محبوب الٰہی
دے تو بھي نبوت کی صداقت پہ گواہی
گفتار سياست ميں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت ميں وطن اور ہی کچھ ہے
اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسی سے
تسخير ہے مقصود تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سياست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
اقوام ميں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
قوميت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے
(وطنیت یعنی وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے)
اقبال کا اعتراض یہ تھا کہ جغرافیائی حدود پر قائم قومیت انسانوں کو بانٹتی ہے، جبکہ اسلام انسانوں کو جوڑتا ہے۔ اگر مسلمان بھی مٹی، رنگ اور زبان کو اپنی قومیت کی بنیاد بنا لیں، تو وہ اس آفاقی پیغام سے دستبردار ہو جائیں گے جو کائنات کے تمام انسانوں کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے اعلان کیا کہ "اسلام تیرا دیس ہے”۔ یعنی مسلم کی قومیت کا پاسپورٹ اس کا جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ اس کا عقیدہ ہے۔
دو قومی نظریہ: ایک تاریخی اور ارتقائی مطالعہ
جب ہم "دو قومی نظریے” (Two-Nation Theory) کی بات کرتے ہیں، تو تاریخ کے طالب علم ہونے کے ناطے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ نظریہ سر سید احمد خان یا علامہ اقبال کی ذہنی اختراع نہیں تھا، بلکہ یہ برصغیر کی ہزار سالہ تاریخ کا ایک ناگزیر عمرانیاتی نتیجہ تھا۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اس حقیقت کو اپنے مخصوص قانونی اور مدبرانہ انداز میں یوں بیان کیا تھا:
"پاکستان تو اسی دن وجود میں آ گیا تھا جس دن برصغیر میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا”۔
اس جملے کی گہرائی پر غور کیجیے۔ ایک فرد جب اسلام قبول کرتا ہے، تو وہ صرف اپنا مذہب تبدیل نہیں کرتا، بلکہ وہ ایک بالکل مختلف سماجی، قانونی اور تہذیبی نظام (Social Order) کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہندومت کا تصورحیات و کائنات "ذات پات” (Caste System) اور عدمِ مساوات پر مبنی ہے۔ جبکہ اسلام کا نظامِ حیات "مساواتِ انسانی” اور توحید پر قائم ہے۔
یہ دو ایسے متوازی دھارے تھے جو صدیوں تک ایک خطے میں رہنے کے باوجود کبھی آپس میں خلط ملط نہ ہو سکے۔ البیرونی نے اپنی کتاب "کتاب الہند” میں ہزار سال پہلے اس تہذیبی دوری کو واضح کر دیا تھا۔
سر سید احمد خان نے ۱۸۶۷بنارس میں اردو ہندی تنازعے کے بعد اسی تاریخی حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ دو قومیں کبھی ایک ساتھ مخلص ہو کر اکٹھی نہیں چل سکتیں اور نہ ہی کبھی ایک قوم کی تشکیل کرسکتی ہیں اگر انگریز یہاں سے چلا گیا تو اکثریت اقلیت کو دبا لے گی۔ علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ء کے خطبہ الٰہ آباد میں اسی عمرانیاتی حقیقت کو ایک سیاسی اور جغرافیائی قالب عطا کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک مسلمانوں کو ایک مخصوص خطۂ زمین پر سیاسی اقتدار حاصل نہیں ہوگا، وہ اپنے تہذیبی اور مابعد الطبیعاتی اصولوں کی حفاظت نہیں کر سکیں گے۔
قرآنِ مجید نے اس نظریاتی تقسیم کو بہت پہلے واضح فرما دیا تھا:
"هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ”(سورۃ التغابن: 2)
ترجمہ: "وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن۔”
اسلام کی نظر میں کائنات صرف دو گروہوں میں تقسیم ہے: ایک وہ جو وحیِ الٰہی کو مانتا ہے، اور دوسرا وہ جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہی دو قومی نظریے کی اصل قرآنی اساس ہے۔
مقامِ محمدِ عربی ﷺ:ملتِ اسلامیہ کا مرکزِ ثقل (Metaphysical Nucleus)
اب ہم اس موضوع کے سب سے نازک اور اہم موڑ پر پہنچتے ہیں۔ اگر "اسلام ہمارا دیس ہے”، تو اس دیس کا والی کون ہے؟ اس سلطنتِ فکر کا مرکزِ ثقل کیا ہے؟
اقبال کہتے ہیں: "تو مصطفوی ہے”۔
کسی بھی معاشرے یا ریاست کو قائم رکھنے کے لیے ایک مرکز (Center) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مغرب کے لیے وہ مرکز "پارلیمنٹ” یا "دستور” یا "سرحد” ہے۔ لیکن ملتِ اسلامیہ کے لیے وہ مرکزِ ثقل نہ تو کوئی مادی ادارہ ہے اور نہ ہی زمین کا کوئی ٹکڑا، بلکہ وہ ذاتِ گرامی ہے جسے ہم محمدِ عربی ﷺ کہتے ہیں۔
عمرانیات (Sociology) کا اصول ہے کہ جب تک افرادِ معاشرہ کے جذبات اور وفاداریاں ایک نقطے پر جمع نہ ہوں، معاشرہ بکھر جاتا ہے۔ اقبال نے اپنے فلسفۂ خودی اور بے خودی (مثنوی اسرار و رموزِ) میں یہ ثابت کیا ہے کہ مسلم امہ کی تشکیل اور اس کا دوام صرف اور اور صرف "محبتِ مصطفیٰ ﷺ” اور "عقیدۂ رسالت” سے ممکن ہے۔
اقبال فرماتے ہیں:
از رسالت در جہاں تکوینِ ما
از رسالت دینِ ما آئینِ ما
از رسالت صد ہزار ما یک است
جزو ما از جزو مالا ینفک است
(ترجمہ: رسالت ہی سے دنیا میں ہماری تشکیل ہوئی ہے، رسالت ہی ہمارا دین اور ہمارا آئین ہے۔ رسالت ہی کی بدولت ہم لاکھوں ہونے کے باوجود ایک ہیں، اور ہمارا ہر جزو دوسرے جزو سے جڑا ہوا ہے۔)
ذاتِ مصطفیٰ ﷺ مسلمانوں کے لیے صرف ایک مذہبی رہنما کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ مسلم امہ کا مابعد الطبیعاتی شیرازہ (Metaphysical Glue) ہے، جس نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو جوڑا ہوا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا ہوا مسلمان جب شہادتِ توحید و رسالت دیتا ہے، تو وہ خود کو مدینے کے اس مرکز سے جوڑ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ذاتِ رسالت مآب ﷺ پر کوئی حرف آتا ہے، تو انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک کا مسلمان تڑپ اٹھتا ہے۔ یہ مادی رشتہ نہیں ہے، یہ خالصتاً ایک وجودی (Existential) اور ایمانی رشتہ ہے۔
اس رشتے کی مضبوطی کے لیے دو چیزیں بنیادی ہیں:
1. اسوۂ حسنہ کا نفاذ:
جہاں قانون، اخلاق اور سماج کا معیار صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہو۔
2. عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت:
یہ وہ عقیدہ ہے جو امت کو کسی بھی نئے فکری انتشار سے بچاتا ہے۔ یہ امت کے دائرے کو متعین کرتا ہے کہ جو اس مرکز سے وابستہ ہے وہ امت کا حصہ ہے، اور جو اس مرکز سے انحراف کرتا ہے وہ اس فکری دیس سے بے دخل ہو جاتا ہے۔
"تو مصطفوی ہے” — فکری جمود اور دورِ حاضر کے چیلنجز”:
اب میں ایک تلخ مگر ضروری تنقیدی جائزہ (Critical Analysis) لینے کی جسارت کر رہا ہوں۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ "تو مصطفوی ہے”، تو وہ ہمارے سامنے ایک آئینہ رکھتے ہیں۔ کیا آج کا مسلم معاشرہ، کیا آج کا پاکستان اپنے عمل اور فکر کے لحاظ سے "مصطفوی” کہلانے کا حقدار ہے؟
ہم نے پاکستان تو دو قومی نظریے پر بنا لیا، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد ہم نے کیا کیا؟ ہم نے دوبارہ انہی بتوں کو اپنے دلوں میں سجا لیا جن کو توڑنے کا حکم مصطفیٰ عربی ﷺ نے دیا تھا:
ہم نے کلمے کے آفاقی رشتے کو چھوڑ کر خود کو سندھی، بلوچی، پنجابی اور پٹھان میں تقسیم کر لیا۔
ہم نے مسلکی اور فرقہ وارانہ نفرتوں کے ایسے بت تراشے کہ دینِ حنیف کا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا۔
ہم نے معیشت میں سود کا وہ نظام اپنایا جس کے خلاف اللّٰہ تعالٰیﷻ اور اس کے رسول ﷺ کا اعلانِ جنگ ہے۔
ہم نے اقبال کے شعر تو یاد کر لیے، لیکن ان کے فلسفے کو پسِ پشت ڈال دیا۔ حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:
"لا فضل لِعربي على عجمي ولا لِعجمي على عربي… إلا بالتقوى”۔
ترجمہ: کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں…. سوائے تقویٰ کے
لیکن آج ہمارے معاشرے کی بنیادیں تقویٰ پر نہیں، بلکہ مادی طاقت، خاندانی اثر و رسوخ اور معاشی طبقات پر قائم ہیں۔
ایک قلم کار اور دانشور کی حیثیت سے ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہمارا فکری جمود (Intellectual Stagnation) اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک ہم "مصطفوی ہونے” کے حقیقی تقاضوں کو پورا نہ کریں۔ مصطفوی ہونے کا مطلب روایتی قوالیوں یا سالانہ جلسوں تک محدود رہنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب علم، تحقیق، عدل، شجاعت اور انسانیت نوازی کے ان اصولوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جو مدینے کی ریاست کا طرۂ امتیاز تھے۔
اقبال نے ہماری اسی حالت پر نوحہ گری کرتے ہوئے فرمایا تھا:
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
حاصلِ کلام اور فکرِ اقبال کی معاصر معنویت (Conclusion)
میں اس پورے مباحثے کو سمیٹتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ "اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے” محض ایک تاریخی یادگار نہیں، بلکہ یہ دورِ حاضر کے تمام فکری، سیاسی اور وجودی بحرانوں کا واحد حل ہے۔آج کی دنیا گلوبلائزیشن (Globalization) اور پوسٹ ماڈرنزم (Post-Modernism) کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں انسان کی شناخت کو مٹایا جا رہا ہے اور اسے محض ایک معاشی مہرہ (Economic Animal) بنایا جا رہا ہے۔ ایسے میں اسلام کا تصورِ ملت ہی وہ واحد آفاقی متبادل ہے جو انسان کو اس کی حقیقی روحانی اور اخلاقی عظمت سے روشناس کرا سکتا ہے۔
پاکستان کی بقا اور ترقی کا راز بھی اسی نظریے میں پنہاں ہے۔ پاکستان کی مٹی کو اگر کوئی چیز جوڑ کر رکھ سکتی ہے، تو وہ نہ تو کوئی معاشی پیکیج ہے، نہ کوئی مادی طاقت، بلکہ وہ صرف اور صرف اسلام کا نظریاتی دیس اور مصطفوی مرکزیت ہے۔ اگر ہم نے اس مرکز کو چھوڑ دیا، تو ہمارا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگے گی۔
اب یہ میری، آپ کی اور خاص طور پر تمام دانشوروں ،قلم کاروں اور محققین کی ذمہ داری ہے کہ ہم دو قومی نظریے کو جدید علمی اور عقلی زبان میں نئی نسل کے سامنے پیش کریں۔ ہمیں روایت پسندی کے خول سے نکل کر اسوۂ حسنہ کے معاشی اور سیاسی ماڈلز(اسلام کے تصور عدل اجتماعی) کو دنیا کے سامنے ایک چیلنج کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔
آئیے! اجداد کے اس فکری ورثے کو سنبھالیں اور دنیا کو بتائیں کہ ہماری شناخت نہ مٹی سے ہے، نہ خون سے، بلکہ ہماری شناخت تاجدارمدینہﷺ سے ہے۔
میں اپنی گفتگو کو علامہ اقبال کے ان لازوال اور فکر انگیزا شعار پر تمام کرتا ہوں:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی
ان کی جمیعت کا ملک ونصب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تیری
