ایک وقت تھا جب زندگی اتنی تیز رفتار نہیں تھی۔ نہ ہر ہاتھ میں موبائل تھا، نہ ہر لمحہ انگلیوں کی جنبش پر دنیا سمٹ آتی تھی، نہ انٹرنیٹ نام کی کوئی ایسی دنیا تھی جہاں انسان چند لمحوں میں ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے جڑ جائے۔ لوگ کم سہولتوں میں بھی مطمئن تھے۔ رشتوں میں اپنائیت تھی، ملاقاتوں میں خلوص تھا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا احساس دلوں میں زندہ تھا۔ دھوکہ دہی اور فریب اگرچہ اس وقت بھی دنیا کا حصہ تھے، مگر آج کی طرح ہماری روزمرہ زندگی کا لباس نہیں بنے تھے۔
پھر آہستہ آہستہ موبائل ہماری زندگی میں داخل ہوا، اس کے بعد انٹرنیٹ آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا ہماری ہتھیلی میں سما گئی۔ جو کام کبھی گھنٹوں کی محنت سے ہوتے تھے، آج ایک کلک پر مکمل ہو جاتے ہیں۔ آن لائن شاپنگ ہو، دفتری کام، سکول کالج کی پڑھائی یا کھانا پکانے کی ترکیب، سب کچھ انگلی کے ایک اشارے پر ہمارے سامنے موجود ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور سنیپ چیٹ نے ہماری زندگیوں میں مستقل جگہ بنا لی ہے۔ چھوٹے ہوں یا بڑے، حتیٰ کہ گھریلو خواتین بھی اس ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بن چکی ہیں۔
بلاشبہ یہ دنیا ہمارے لیے بے شمار آسانیاں لے کر آئی ہے، لیکن ہر آسانی اپنے ساتھ ایک آزمائش بھی لاتی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے فریب کے ایسے راستے بھی کھول دیے ہیں جن کا تصور کبھی ممکن نہ تھا۔ آج انسان گھر بیٹھے دنیا سے جڑ سکتا ہے، لیکن اسی رابطے کے ذریعے کوئی اجنبی اس کی زندگی میں داخل ہو کر اسے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
آج ایک فون کال، ایک غلط لنک یا معمولی سی غفلت انسان کو برسوں کی محنت سے کمائی ہوئی رقم سے محروم کر سکتی ہے۔ کبھی بینک اکاؤنٹ بند ہونے کا خوف دکھایا جاتا ہے، کبھی اے ٹی ایم کارڈ بلاک ہونے کا پیغام آتا ہے اور کبھی لاکھوں روپے کے انعام کا لالچ دے کر ذاتی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی اور اس کی جمع پونجی چند لمحوں میں ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جعلی ویب سائٹس اور جھوٹے پیغامات پر یقین کر لیتے ہیں اور بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
ڈیجیٹل فریب کا ایک خطرناک پہلو نوجوانوں کی زندگیوں میں بھی نظر آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصاویر، جعلی شناختیں اور جھوٹی محبت کے دعوے پہلے اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر اسی اعتماد کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ کسی کی تصویر میں ردوبدل کرکے اسے خوف زدہ کرنا، پیسوں کا مطالبہ کرنا اور کسی کی عزت و سکون کو داؤ پر لگا دینا صرف ایک جرم نہیں بلکہ انسانیت کے زوال کی علامت ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں لوگوں کو اظہار کا موقع دیا ہے، وہیں دکھاوے کی ایک ایسی دوڑ بھی پیدا کر دی ہے جس میں ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت رخ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔ تصویروں میں خوشیاں، کامیابیاں اور آسائشیں نظر آتی ہیں، مگر حقیقت ہمیشہ اس کے پیچھے موجود نہیں ہوتی۔ بعض لوگ دوسروں کی دکھائی ہوئی زندگی کو حقیقت سمجھ کر احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں ڈیجیٹل دنیا کا فریب صرف پیسوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوچ، احساس اور ذہنی سکون کو بھی متاثر کرتا ہے۔
افسوس تو یہ ہے کہ کچھ لوگ محنت اور حلال روزی کے بجائے فوری دولت کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ دوسروں کی لاعلمی اور اعتماد سے فائدہ اٹھا کر حاصل کیا گیا مال شاید جیب تو بھر دے، مگر ضمیر کو خالی کر دیتا ہے۔ چند لمحوں کی لالچ کسی دوسرے انسان کی برسوں کی محنت برباد کر سکتی ہے۔
اس صورتِ حال میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو صرف موبائل استعمال کرنا نہیں بلکہ اسے محفوظ طریقے سے استعمال کرنا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں سمجھانا ہوگا کہ ہر آن لائن دوست قابلِ اعتماد نہیں ہوتا، ہر پیغام سچا نہیں ہوتا اور ہر خوبصورت تصویر حقیقت کی عکاس نہیں ہوتی۔ اپنی ذاتی معلومات، پاس ورڈز اور ضروری دستاویزات کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی سے دور نہ بھاگیں، بلکہ شعور کے ساتھ اسے استعمال کرنا سیکھیں۔ کیونکہ مسئلہ موبائل، انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل دنیا نہیں، مسئلہ وہ نیت ہے جو اسے استعمال کرتی ہے۔ یہی ٹیکنالوجی علم کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور فریب کا ہتھیار بھی۔
یاد رکھیے! ہر چمکتی اسکرین روشنی نہیں دیتی، کچھ اسکرینوں کے پیچھے فریب کے اندھیرے بھی چھپے ہوتے ہیں۔ اگر شعور ہماری انگلی تھامنے والا نہ ہو تو یہی ایک کلک، برسوں کی محنت، اعتماد اور سکون ہم سے چھین سکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل دنیا میں قدم قدم پر احتیاط، سمجھ داری اور شعور ضروری ہے، کیونکہ جدید دور میں محفوظ وہی ہے جو ٹیکنالوجی کا استعمال تو کرے، مگر آنکھیں بند کرکے اس پر اعتماد نہ کرے۔
