Baaghi TV

نئے انتظامی یونٹس اور آبادی کا توازن: مستقبل کے پاکستان کی کلید،تحریر: نعیم خان

کسی بھی ملک کا نظام اس کے شہریوں کی فلاح اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھ جائے لیکن حکمرانی کا پرانا طریقہ وہی رہے تو پورا نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ آج اگر ہم ایک تجربے کار اور حساس انسان کی طرح اپنے ملک کی حالت پر نظر ڈالیں تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل پر بڑھتا ہوا آبادی کا بوجھ اور تمام اختیارات کا چند بڑے شہروں میں جمع ہو جانا ہے۔

اس وقت ہماری آبادی دگنی ہو چکی ہے جبکہ صوبائی حدود اور انتظامی ڈھانچہ وہی دہائیوں پرانا ہے۔ جب 24 کروڑ سے زائد لوگوں کے تمام فیصلے صرف چار صوبائی دارالحکومتوں سے ہوں گے تو دور دراز کے علاقوں میں محرومی کا پھیلنا ایک فطری بات ہے۔ موجودہ حکومت میں نئے انتظامی یونٹس یا 160 بااختیار اضلاع بنانے کی جو تجویز سامنے آئی ہے وہ محض ایک سیاسی بحث نہیں بلکہ عوامی ضرورت ہے۔ آئینی طریقہ کار کے تحت اگر اختیارات اور فنڈز کو نچلی سطح تک منتقل کر دیا جائے تو نہ صرف گورننس بہتر ہوگی بلکہ سالانہ اربوں روپے کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کا ویژن اس معاملے پر بالکل واضح اور حتمی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک ہم طاقت اور وسائل کو اضلاع کی سطح تک منتقل کر کے عوام کی دہلیز پر نہیں لائیں گے معاشی اور سیاسی استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔

دوسری طرف آبادی کا بے ہنگم اضافہ ہماری تمام معاشی پیشرفت کو نگل رہا ہے۔ اس وقت آبادی کے بڑھنے کی شرح 2.1 فیصد سے اوپر ہے جسے 2030 تک 1.1 فیصد پر لانا ایک قومی ہدف بن چکا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے مانع حمل ادویات پر ٹیکس ختم کیے ہیں اور خاندانی بہبود کے مراکز کی توسیع کا کام شروع کیا ہے لیکن یہ پروگرام زبردستی کی بجائے مکمل طور پر رضاکارانہ اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ اگر ہم نے اس شرح کو کنٹرول نہ کیا تو تعلیم ، صحت اور روزگار کی فراہمی مزید مشکل ہو جائے گی۔

حقیقی اور پائیدار حل یہی ہے کہ ہم نئے بااختیار اضلاع کی تشکیل اور آبادی کے توازن کو ملا کر ایک عملی حکمتِ عملی بنائیں۔ جب ہم 160 اضلاع کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات دیں گے تو وہی بااختیار اضلاع اپنے علاقوں میں تعلیم ، صحت اور خاندانی بہبود کے پروگراموں کو زیادہ کامیابی سے چلا سکیں گے۔ عبدالعلیم خان کی قیادت میں ہمارا پختہ یقین ہے کہ سیاسی تعصبات سے اوپر اٹھ کر اگر ہم طاقت عوام کو سونپ دیں اور آبادی کو قابو کر لیں تو پاکستان اپنے تمام بحرانوں سے نکل کر ایک مضبوط ، خود مختار اور خوشحال ملک بن سکتا ہے

More posts