پاکستان ایک ترقی پزیر ملک کے طور دنیا میں جانا جاتا ہے اس ملک کی دوسری پہچان جمہوریت ہے اور تیسری پہچان مارشل لا ہے یہ تینوں صورتیں اس ملک کو شہرت کی بلندیوں پر لے جاتی ہیں ،جمہوریت کو جب آ زادی ملتی ہے تو سیاسی جماعتوں کا شور امریکہ برطانیہ کے ایوانوں تک جا پہنچتا ہے اسی طرح جب ضرورت پڑھتی ہے کہ جمہوریت کا شور امریکہ اور برطانیہ تک نہیں پہنچا تو مارشل لا کی خبریں اور دھوم دھام امریکہ برطانیہ تک جا پہنچتی ہیں اور جب اس ملک میں غربت افلاس کا دور شروع ہوتا ہے تو قرض کی آواز یں برطانیہ ، امریکہ پہنچتی ہیں اور ملک کے ترقی پزیر ہونے کا ثبوت مل جاتا ہے ،
جمہوری دور میں سیاست دان عوامی فلاح کی بات کرتے ہیں لیکن فلاح کی بجائے ملک تباہ ہونے تک جا پہنچتا ہے اور سیاست دان چور ،ڈاکو ، لٹیرے کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں، یہی نہیں بلکہ غدار وطن کا بھی تمغہ ان کے گلے کی بجائے ماتھے پر سجایا جاتا ہے اورانہی سیاست دانوں کو تین سال بعد پاک صاف اور محب وطن قرار دے کر ملک کی باگ ڈور انکے حوالے کی جاتی ہے اور یہی سیاست دان افواج پاکستان کے خلاف پورا منہ کھول کر کہتے ہیں کہ فوج کو بیرکوں میں چلا جانا چاہے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کو خطرہ کیوں ہے ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک کی عوام کو خطرہ کیوں ہے ان سوالوں کے جوابات قدرے مشکل تو ہیں لیکن یہ سب خطرات اندرونی ہیں
عوام اس وقت مہنگائی کے بیلنے میں بل کھا رہی ہے، جمہوریت قرض کے بیلنے میں بل کھا رہی ہے، افواج پاکستان بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے نشانے پر، یہ سب کیا ہے اگر بغور تحقیق کی جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس ملک کی عوام ٹھیک نہیں ہے کچھ جمہوریت کے ساتھ ہیں کچھ افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور کچھ خود کو عوام سمجھ کر اپنے مفاد کی خاطر عوام ہیں یعنی سب کے سب اپنے اپنے مفاد پر ڈٹے ہوئے اور بٹے ہوئے ہیں،اور عوام نعروں کی گرد تلے اٹے ہوئے ہیں نہ یہ گرد ہٹتی ہے نہ ہی ملک ترقی کرتا ہے نہ اس ملک کی عوام کو بنیادی سہولتیں ملتی ہیں اور نہ اس ملک کے دفاع کو کوئی مضبوط ہونے دیتا ہے اور نہ ہی اس ملک کے کسی سیاسی پارٹی کے وزیر اعظم کو پانچ سال مکمل کرنے دیتا ہے کوئی۔
آخر یہ سب کیا ہے اور یہ سب کیا ہو رہا ہے اور نجانے کب تک ہوتا رہے گا پاکستانی کب تک سوتے رہیں گے پاکستانیوں کو جب تک محب وطن ، ترقی ، دفاع کی مضوطی ، اور عوامی بنیادی سہولتوں کا شعور نہیں آ جاتا تب تک تو سوال اٹھتے رہیں گے اور یہ شعور کب آئے گا یہ بھی اک سوال ہے اور یہ سوال پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں
