زندگی کا نام ہی امتحان ہے۔ یہ پھولوں کی سیج نہیں کہ ہر قدم پر آسانیاں ملیں۔ زندگی میں کبھی خوشی ہے تو کبھی غم، کبھی کامیابی ہے تو کبھی ناکامی۔
انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ سب کچھ آسانی سے مل جائے گا۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے، اسے پتہ چلتا ہے کہ ہر چیز کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ اسکول، کالج، نوکری، رشتے ہر جگہ مقابلہ ہے۔ کبھی پیسے کی تنگی ہوتی ہے، کبھی لوگوں کی باتیں دل دکھاتی ہیں۔
لیکن یہی مشکلات ہمیں مضبوط بناتی ہیں۔ اگر زندگی آسان ہوتی تو ہم کچھ سیکھ نہ پاتے۔ گر کر ہی انسان چلنا سیکھتا ہے۔ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔
اصل کامیابی یہی ہے کہ مشکلات کے باوجود ہمت نہ ہاریں۔ صبر، محنت اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ جو لوگ مشکلات میں مسکرا کر آگے بڑھتے ہیں، وہی زندگی جیتتے ہیں۔
یاد رکھیں مشکل وقت مستقل نہیں رہتا، لیکن مضبوط لوگ رہتے ہیں۔
اس لیے ہار ماننے کے بجائے لڑیں، کیونکہ آسان راستے منزل تک نہیں لے جاتے۔
زندگی آسان نہیں ہے ۔ تحریر: نور فاطمہ
