Baaghi TV

نکولس مادورو کی گرفتاری ،150 سے زائد طیاروں کا استعمال،خفیہ آپریشن کی تفصیلات

us

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے امریکا نے ایک غیر معمولی، طویل اور انتہائی منظم فوجی آپریشن انجام دیا، جس میں 150 سے زائد جنگی اور معاون طیاروں نے حصہ لیا۔ یہ آپریشن کئی ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد چند گھنٹوں میں مکمل کیا گیا۔

فلوریڈا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ڈین کین نے بتایا کہ یہ کارروائی امریکی فوج کے تمام شعبوں اور انٹیلی جنس اداروں کے باہمی اشتراک سے کی گئی، جس کی تیاری میں کئی مہینے لگے۔جنرل کین کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے طویل عرصے تک صدر مادورو کی نقل و حرکت، رہائش، سفری روٹس، خوراک اور حتیٰ کہ لباس تک کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔انہوں نے کہاہمیں یہ سمجھنا تھا کہ وہ کیسے حرکت کرتا ہے، کہاں رہتا ہے، کہاں جاتا ہے، کیا کھاتا ہے اور کیا پہنتا ہے،

سی این این کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق، سی آئی اے نے گزشتہ موسمِ گرما میں وینزویلا کے اندر ایک چھوٹی خفیہ ٹیم تعینات کی تھی جو براہِ راست مادورو کی سرگرمیوں پر نظر رکھ رہی تھی۔

جنرل کین نے مزید بتایا کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب مغربی نصف کرے (Western Hemisphere) میں موجود خشکی اور سمندر کے 20 مختلف فوجی اڈوں سے 150 سے زائد طیارے روانہ کیے گئے۔ ان میں ایسے ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے جو ریسکیو اور گرفتاری ٹیم کو لے کر محض 100 فٹ کی بلندی پر سمندر کے اوپر پرواز کرتے ہوئے وینزویلا میں داخل ہوئے تاکہ ریڈار سے بچا جا سکے۔ہیلی کاپٹرز کو علاقے میں کی گئی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔ یہ فورس مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ایک بجے صدر مادورو کے کمپاؤنڈ پر پہنچی۔جنرل کین کے مطابق اس دوران امریکی فورسز کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اپنی حفاظت کے لیے متعدد بار فائرنگ کا تبادلہ کرنا پڑا۔

جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران ایک امریکی طیارہ دشمن کی فائرنگ کی زد میں آیا، تاہم وہ قابلِ پرواز رہا اور مشن مکمل ہونے تک آپریشن کا حصہ بنا رہا۔انہوں نے کہا،“ایک طیارہ نشانہ بنا، لیکن وہ پرواز کے قابل رہا، اور جیسا کہ صدر نے کہا، ہمارے تمام طیارے بحفاظت واپس آئے۔”

جنرل کین کے مطابق امریکی فورسز کو وینزویلا سے نکلتے وقت بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور انخلا کے دوران کئی ‘سیلف ڈیفنس انگیجمنٹس’ ہوئیں۔آپریشن رات تقریباً 3 بج کر 29 منٹ (امریکی وقت) پر مکمل ہوا، جس کے بعد فورسز مادورو اور ان کی اہلیہ کو لے کر وینزویلا سے روانہ ہو گئیں۔صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی بحری جہاز یو ایس ایس آئیوو جیما پر منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں نیویارک لے جایا جا رہا ہے تاکہ وہاں ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔جنرل ڈین کین نے واضح کیا کہ وینزویلا میں بڑے پیمانے پر حملوں اور صدر کی گرفتاری کے بعد بھی امریکی فوج خطے میں موجود رہے گی۔انہوں نے کہا،“اس وقت ہماری فورسز خطے میں ہائی الرٹ پر ہیں، اور اپنے دفاع، مفادات کے تحفظ اور طاقت کے اظہار کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔”

وینزویلا صدرکی گرفتاری ،امریکا بھر میں ’’نو وار آن وینزویلا‘‘ مظاہروں کا اعلان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ان کی انتظامیہ نے مونرو ڈاکٹرائن سے بھی آگے بڑھ کر اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وینزویلا امریکا کے لیے بڑھتا ہوا سیکیورٹی خطرہ بن چکا تھا، جہاں غیر ملکی دشمن عناصر موجود تھے اور ایسے مہلک ہتھیار حاصل کیے جا رہے تھے جو امریکی مفادات اور جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔“یہ اقدامات امریکی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھے، جو دو صدیوں پر محیط ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔”

جنرل ڈین کین نے آپریشن کو امریکی مشترکہ افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس مربوط مشین کے کسی ایک حصے نے بھی ناکامی دکھائی ہوتی تو پورا مشن خطرے میں پڑ سکتا تھا۔انہوں نے زور دے کر کہا،“ناکامی امریکا کی جوائنٹ فورس کے لیے کبھی کوئی آپشن نہیں ہوتی۔”

More posts