زندگی کے کچھ فیصلے انسان کو ایسے مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں سے آگے بڑھنے کا ہر راستہ کسی گہرے کھڈ کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔ آصف کی زندگی بھی پچھلے کچھ عرصے سے ایک ایسے ہی کٹھن دوراہے کا شکار تھی، جہاں ایک طرف اس کا ادھورا ماضی تھا اور دوسری طرف اس کا بنتا بگڑتا حال۔ وہ ایک ایسے ذہنی اور جذباتی کرب سے گزر رہا تھا جس کی تپش اس کے وجود کو آہستہ آہستہ جھلسا رہی تھی اور وہ چاہ کر بھی اس کیفیت سے باہر نکلنے میں ناکام تھا۔
کئی سال پہلے، جب زندگی خوابوں کے ہندولے میں جھول رہی تھی، آصف نے سیما سے اپنی محبت اور پسندیدگی کا والہانہ اظہار کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ دلوں کی سچائی خود اپنا راستہ بنا لیتی ہے، لیکن سیما کی طرف سے ملنے والی پراسرار خاموشی نے اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو زنجیر پہنا دی تھی۔ اس خاموشی نے نہ تو اسے پوری طرح جینے دیا اور نہ ہی زندگی میں آگے بڑھنے کا کوئی واضح حوصلہ بخشا۔ وہ ایک ایسی ادھوری اور گنجلک کہانی کا حصہ بن کر رہ گیا تھا جس کا اگلا صفحہ پلٹنا اب اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ وہ روز اسی خاموشی کے مقتل میں اپنی امیدوں کا خون ہوتے دیکھتا تھا۔
وقت اپنی تیز رفتاری سے گزرتا گیا اور آصف کی یہ تنہائی اور خاموش اداسی اس کے گھر والوں کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی۔ خاندانی دباؤ، بزرگوں کی گرتی ہوئی صحت اور معاشرتی روایات کے سنگین تقاضوں کے سامنے وہ بالاآخر بالکل لاچار ہو گیا۔ اس کی اپنی مرضی، خوشی اور جذبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، گھر والوں نے اس کی شادی کا یکطرفہ فیصلہ کر دیا، جسے وہ اخلاقی طور پر نہ ٹھکرا سکا۔ اب اس کی زندگی میں ایک دوسری عورت داخل ہو چکی تھی، جو شرعی، قانونی اور معاشرتی طور پر اس کی بیوی بن چکی تھی۔ وہ ایک نہایت معصوم، سلجھی ہوئی اور پرامید لڑکی تھی جو آصف کی ویران زندگی کو اپنی محبت سے بھرنے کا حسین خواب لے کر اس کے گھر آئی تھی۔
آصف روز رات کو جب اپنے کمرے میں داخل ہوتا، تو اسے شدید ملامت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا۔ ایک طرف اس کا وہ ماضی تھا جس کی تلخ یادیں اور سیما کا چہرہ اس کے وجود سے چمٹا ہوا تھا، اور دوسری طرف اس کا حال تھا جو اس سے ایک مخلص اور وفادار شوہر ہونے کا تقاضا کرتا تھا۔ اس کی بیوی کی محبت بھری پرخلوص آنکھیں اور اس کا بے لوث خیال رکھنا آصف کے ضمیر پر ایک بھاری بوجھ بنتا جا رہا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس معصوم لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے، لیکن اپنے باغی دل کے ہاتھوں مجبور وہ اسے وہ مقام اور توجہ نہیں دے پا رہا تھا جس کی وہ حقیقی حقدار تھی۔
آصف کے لیے یہ ایک ایسا اذیت ناک دوراہا تھا جہاں وہ ایک طرف اپنی ادھوری محبت کی لاش اٹھائے پھر رہا تھا اور دوسری طرف ایک زندہ اور مخلص رشتے کا گلا گھونٹ رہا تھا۔ لیکن کب تک؟ ایک رات جب اس کی بیوی نے اس کی پریشانی دیکھ کر بغیر کسی شکوے کے اس کا ہاتھ تھاما، تو آصف کو محسوس ہوا کہ ماضی کی مری ہوئی مٹی کے لیے وہ ایک جیتے جاگتے انسان پر ظلم کر رہا ہے۔ اس نے گہرا سانس لیا، سیما کی خاموشی کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہا اور اپنی بیوی کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر لی۔ اس نے دوراہے پر کھڑے رہنا چھوڑ کر اپنے حال کو چن لیا تھا۔
