Baaghi TV

سندھ طاس: خودساختہ طاقت کا غرور اور حق کی فتح،تحریر: نعیم خان

پانی صرف زمین کی پیاس ہی نہیں بجھاتا بلکہ قوموں کے مقدر ان کی معیشت اور بسا اوقات ان کے امن و امان کی بقا کا ضامن بھی ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب دریاؤں کی روانی پر طاقت کے سایے گہرے ہونے لگیں تو سفارت کاری اور قانون کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ بھی ایک ایسا ہی تاریخ ساز اور پیدائشی دشمن فریقین کا ضامن رہا ہے جس نے گزشتہ چھ دہائیوں سے تمام تر جغرافیائی اور سیاسی گرم و سرد اور جنگ وجدل کے باوجود خطے میں پانی کے توازن کو قائم رکھا۔

تصور کیجیے ایک ایسے طویل اور صبر آزما معرکے کا جہاں ایک طرف طاقت کا زعم اور یکطرفہ فیصلے تھے تو دوسری طرف آئین و قانون اور ضبط کا حوصلہ۔ کہانی کے اس موڑ پر جب اپریل 2025 کے واقعات کو بنیاد بنا کر بھارت نے اس تاریخی معاہدے کو ایک طرف رکھتے ہوئے التوا میں ڈالنے کا یکطرفہ اعلان کیا تو یوں محسوس ہونے لگا جیسے دہائیوں پر محیط اعتماد کی عمارت لرز گئی ہو۔ موقف یہ اپنایا گیا کہ جب تک سرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے الزامات کی دھند نہیں چھٹتی پانی کی روانی کا یہ معاہدہ معطل رہے گا۔ لیکن کیا بین الاقوامی لوح پر لکھے گئے عہد نامے اتنی آسانی سے یکطرفہ فیصلوں کی نذر ہو سکتے ہیں؟

پاکستان نے اس نازک مرحلے پر جذباتی ردعمل کے بجائے قانون اور انصاف کی دہلیز کا انتخاب کیا۔ ہیگ کی دادگاہ یعنی مستقل ثالثی عدالت میں عرضی رکھی گئی تاکہ سچ اور جھوٹ کا نتھارا ہو سکے۔ سماعتیں ہوئیں ، دلائل سنے گئے اور بالآخر اگست 2026 کے آخری دن دنیا نے ایک اہم فیصلہ دیکھا۔ پانچ رکنی عدالتی بینچ نے متفقہ طور پر یہ حقائق واضح کر دیے کہ سندھ طاس معاہدہ آج بھی اتنا ہی نافذ العمل اور پابند ہے جتنی کہ اس کی پہلی بنیاد رکھی گئی تھی۔ عدالت کا یہ پیغام صاف اور شفاف تھا کہ دہائیوں پر محیط یہ معاہدہ جنگوں کے بدترین ادوار میں بھی قائم رہا لہٰذا کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اپنے وعدوں سے روگردانی نہیں کر سکتا۔

فیصلے کا ایک اور اہم پہلو راتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے تعمیراتی کام پر پابندی سے متعلق تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ چناب کے شفاف اور مقدس پانیوں پر تعمیر ہونے والے اس ڈیم کی دیواروں کو فی الحال ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھایا جائے تاکہ عالمی بینک کے غیر جانبدار ماہرین تفصیلی جائزہ لے سکیں۔ یہ محض ایک قانونی نقطہ نہیں بلکہ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ اور ماحول کی حفاظت کے لیے ایک متوازن قدم ہے۔

اس عدالتی فیصلے پر دونوں طرف کے ردعمل میں فطری طور پر گہرا تضاد دیکھنے کو ملا۔ پاکستان کی جانب سے اسے قانون ، اخلاقیات اور صبر کی فتح قرار دیا گیا اور بین الاقوامی سطح پر یہ واضح کیا گیا کہ پانی جیسے بنیادی انسانی وسیلے کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس بھارتی حکام کی جانب سے اس فیصلے اور عدالت کے دائرہ اختیار پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور پرانے موقف کو دہرایا گیا۔

قانون کی کتابوں میں یہ باب بھلے ہی تحریر ہو چکا ہو لیکن حقیقت کے میدان میں اس کے اثرات آنے والے وقت پر منحصر ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کس نے کتنی بڑی قانونی فتح حاصل کی بلکہ اصل دانشمندی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ خطے کے کروڑوں انسانوں کی بقا زراعت اور امن کا ضامن یہ معاہدہ اپنی اصل روح کے ساتھ قائم رہے۔ قانون نے اپنا راستہ دکھا دیا ہے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل اس بات پر ہے کہ فریقین اس راستے پر حکمت اور بصیرت کے ساتھ کتنا آگے بڑھتے ہیں

More posts