رب العزت کا بے شمار احسان ہے کہ اس نے ہمیں خاتم النبیین، سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اور ان کی محبت و ذکر سے ہمارے قلوب کو جلا بخشی۔ اسی نسبتِ پاک کو استوار رکھنے اور بادیِ برحق ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو مشعلِ راہ بنانے کے لیے "تحریک دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام” 22 ربیع الأول بمطابق 5 ستمبر 2026 بروز ہفتہ ایک انتہائی روحانی، بابرکت اور نورانی "محفلِ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ” کا انعقاد بذریعۂ مواصلات کیا گیا۔ اس روح پرور نشست کی صدارت اور سرپرستی تحریک کی بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری صاحبہ نے کی، جبکہ محترمہ سمعیہ فرید صاحبہ نے بحیثیت منتظمہ و ناظمہ محفل کے تمام امور کو نہایت حسنِ اسلوب اور نظم و ضبط کے ساتھ سرانجام دیا۔
محفل کا باقاعدہ آغاز مقررہ وقت پر ہوا، جہاں ناظمہِ محفل محترمہ سمعیہ فرید صاحبہ نے شائستہ اور دلکش انداز میں تمام حاضرین کو خوش آمدید کہا اور محفل کے اهداف و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے محفل کا آغاز کیا ۔ محفل کی شروعات معبودِ حقیقی کے پاک کلام سے ہوئی۔ ناظمہ کی دعوت پر محترمہ مقدس حماد صاحبہ نے اپنی خوش الحانی اور دلنشین لحن سے تلاوتِ قرآنِ مجید کی سعادت حاصل کی، جس سےایک سکون بخش اور روحانی فضا چھا گئی۔
کلامِ الٰہی کی تلاوت کے بعد باری تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزانہ نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لیے محترمہ حرا نور صاحبہ کو دعوتِ کلام دی گئی، جنہوں نے نہایت سوز و گداز سے حمدِ باری تعالیٰ پڑھ کر سامعین کے قلوب کو منور کیا۔ حمدِ خداوندی کے بعد سرورِ کائنات، فخرِ موجودات ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں نعتِ پاک کے گلدستے پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ناظمہِ محفل محترمہ سمعیہ فرید صاحبہ نے ترتیب وار ثنا خواں خواتین کو مدعو کیا، جن میں محترمہ فرحت رشید صاحبہ،محترمہ حمادیہ صفدر ،محترمہ سیماب گل صاحبہ،غزالہ سلطانہ، اور محترمہ حمادیہ صفدر صاحبہ شامل تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حرا نور اور جویریہ صاحبہ دو بہنوں نے اپنے منفرد اور پر سوز لہجے میں نعتِ پاک کے اشعار پڑھ کر بارگاہِ رسالت میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔
محفل کو مزید وقار اور جلا اس وقت ملی جب بانیِ تحریک محترمہ عمارہ کنول چودھری صاحبہ اور ناظمہِ محفل کی درخواست پر تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی مرکزی صدر محترمہ عائشہ راجپوت صاحبہ نے اپنے مخصوص اور پرتاثیر اسلوب میں یونس تحسین کا مشہور نعتیہ کلام پیش کیا:
در بدر مدحتِ سرکار سناتا ہوا میں
اپنی بخشش کا ہوں ساماں بناتا ہوا میں
دم بدم لفظ عطا کرتا ہوا ربِ کریم
شعر در شعر انہیں نعت بناتا ہوا میں
آپ ہیں مسندِ محمود پہ جلوہ افروز
اور غلاموں میں کھڑا نام لکھاتا ہوا میں
آپ فرماتے ہوئے کون سنائے گا مجھے نعت
دور جوتوں میں کھڑا ہاتھ ہلاتا ہوا میں
عقیدت و محبت سے لبریز اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دیگر شرکاء نے بھی اپنی خوش الحانی کا جادو جگایا، جن میں محترمہ علشبہ شہباز صاحبہ، محترمہ تنزیلہ افضل شیرصاحبہ، محترمہ نمرہ امین صاحبہ اور محترمہ انیلہ صاحبہ شامل تھیں۔ اس محفل کی خاص بات دیارِ غیر (UK) سے سات سمندر پار محترمہ ندا عباس صاحبہ کی شرکت تھی، جنہوں نے اپنی خوبصورت اور پرکشش آواز میں درج ذیل کلام پڑھ کر محفل کو معطر کر دیا:
میرے دل میں ہے یادِ محمد ﷺ
میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ
تاجدارِ حرم کے کرم سے
آ گیا زندگی کا قرینہ
پروگرام کے آخری اور اختتامی مرحلے میں تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری صاحبہ نے اپنے صدارتی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے تمام شرکت کرنے والی خواتین، قاریہ، ثنا خواں خواتین اور بالخصوص بیرونِ ملک سے جڑنے والے تمام شرکاء کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے محترمہ سمعیہ فرید صاحبہ کی بے مثال اور پرتاثیر نظامت و انتظام کو خوب سراہا اور اپنےعزم کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان شاء اللہ مستقبل میں تحریک کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی سطح پر اس سے بھی بڑی اور وسیع محافلِ سیرت النبی ﷺ کا انعقاد کیا جائے گا۔
آخرمیں، امتِ مسلمہ کی اتحاد و یکجہتی، ملکی سلامتی، خواتینِ اسلام کی اخلاقی و دینی استقامت اور تمام شرکاء کی کامیابی کے لیے دعا کی گئی، جس کے ساتھ ہی یہ یادگار اور بابرکت نشست خیر و عافیت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔
