پُراسرار ڈرون امریکی جوہری بمبار بیس تک جا پہنچا،جس پرسیکیورٹی حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ایک نامعلوم ڈرون کو بارکسڈیل ایئر فورس Barksdale Air Force Base کے قریب پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد فوجی حکام نے فوری طور پر خطرے کی گھنٹی بجا دی اس اڈے پر جدید ترین B-52 Stratofortress بمبار طیارے موجود ہیں جو دنیا بھر میں جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں واقعے کے بعد سیکیورٹی الرٹ چارلی فورس پروٹیکشن کنڈیشن تک بڑھا دیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی ممکنہ خطرے کا خدشہ موجود ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ چکی ہے اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں صورتِ حال مزید حساس ہو گئی ہے ایران ماضی میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے شاید خودکش ڈرونز اور میزائل استعمال کرتا رہا ہے۔
ٹرمپ اور ایپسٹین کا مزاحیہ مجسمہ واشنگٹن میں نصب
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کی شناخت اور اس کے آپریٹر کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں جبکہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرون کو قبضے میں لیا گیا یا نہیں،کسی بھی فوجی تنصیب کے اوپر بغیر اجازت ڈرون اڑانا ریاستی اور وفاقی قانون کے تحت جرم ہے اور اس پر بھاری جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ B-52 Stratofortress امریکی فضائیہ کے طاقتور ترین بمبار طیاروں میں شمار ہوتے ہیں جو تقریباً 8800 میل تک بغیر ایندھن بھرے پرواز کر سکتے ہیں اور تقریباً 70 ہزار پاؤنڈ وزنی جوہری یا روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبروں پر ایرانی صدر کے بیٹے کا بیان جاری
