بھارت میں نیٹ پیپر لیک تنازع اور طلبہ کے احتجاج پر خاموش رہنے پر تنقید کے بعد بالی ووڈ اداکار عامر خان کی بیٹی اور ذہنی صحت کی کارکن آئرا خان نے اپنی خاموشی کی وجہ بیان کرتے ہوئے وضاحت پیش کی ہے۔
آئرا خان نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک طویل ویڈیو میں کہا کہ وہ ذہنی صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور عموماً خبروں، احتجاج اور تشدد سے متعلق ویڈیوز دیکھنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ ایسی چیزیں انہیں ذہنی طور پر بےبس اور پریشان کر دیتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے طلبہ کے احتجاج کی ویڈیوز نہیں دیکھیں اور نہ ہی خود کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مناظر سے جذباتی طور پر متاثر ہونے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی خاموشی سے کسی کو یہ تاثر ملا کہ انہیں اس معاملے کی پروا نہیں تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں، کیونکہ ان کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔آئرا خان نے مزید انکشاف کیا کہ جب انہیں اپنی کزن کی احتجاج کے دوران گرفتاری کی اطلاع ملی تو وہ شدید پریشان ہو گئی تھیں، تاہم بعد میں اس کی خیریت کی خبر ملنے پر انہیں اطمینان ہوا اور وہ دوبارہ اپنی معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئیں۔
ویڈیو کے کیپشن میں آئرا خان نے اعتراف کیا کہ خبروں اور احتجاج سے دور رہنا ایک طرح کا "امتیاز” ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ اپنی صلاحیتوں اور وسائل کے مطابق معاشرے میں مثبت کردار کیسے ادا کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں نیٹ پیپر لیک تنازع کے خلاف نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین، جن کی قیادت "کاکروچ جنتا پارٹی” اور سماجی کارکن سونم وانگ چک کر رہے ہیں، وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس سے قبل سلمان خان، عالیہ بھٹ، کرینہ کپور اور دیگر معروف شخصیات بھی طلبہ کے احتجاج اور پیپر لیک معاملے پر اپنی آواز بلند کر چکی ہیں، جبکہ حال ہی میں گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ نے بھی کہا تھا کہ طلبہ کے احتجاج کی حمایت پر انہیں ایک بار پھر "ملک دشمن” قرار دیا جا سکتا ہے۔
