امریکی ارب پتی اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے مریخ پر انسانی بستی بنانے کے اپنے دیرینہ خواب میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ سالوں سے وہ انسانوں کو مریخ پر پہنچانے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاہم اب انہوں نے مریخ کی بجائے چاند پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں ایلون مسک نے ایک ایکس (ٹوئٹر) پوسٹ میں کہا کہ اسپیس ایکس نے چاند پر انسانی شہر بسانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ کام ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں مکمل کر لیں گے، جبکہ مریخ پر انسانی بستی کے لیے کم از کم 20 سال یا اس سے زیادہ وقت درکار ہوگا۔
ایلون مسک نے وضاحت کی کہ مریخ کا سفر ہر 26 مہینے بعد ممکن ہوتا ہے، کیونکہ تب دونوں سیارے ایک لائن میں آتے ہیں، جبکہ چاند کے لیے ہر 10 دن میں مشن لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چاند پر انسانی بستی مریخ کے مقابلے میں بہت تیزی سے ممکن ہے۔
واضح رہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا بھی مارچ 2026 میں پانچ دہائیوں بعد انسان بردار آرٹیمس 2 مشن چاند کے مدار میں بھیجنے جا رہا ہے۔ اس کے بعد آرٹیمس 3 مشن دو سال کے اندر چاند پر بھیجا جائے گا، جس میں خلا باز چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔
متعدد دیگر کمپنیوں نے بھی چاند کے مدار میں خلائی اسٹیشنز قائم کرنے یا چاند کی سطح پر مستقل بیسز بنانے کے منصوبے شروع کر دیے ہیں۔
ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ مریخ پر انسانی بستی کے منصوبے کو ہمیشہ برقرار رکھا جائے گا اور اسپیس ایکس اس پر پانچ سے سات سال بعد کام شروع کرے گا، مگر چاند پر یہ منصوبہ تیزی سے مکمل ہو سکتا ہے۔
مسک کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ اسپیس ایکس نے پہلے مریخ پر توجہ دینے کے بعد اب چاند کو پہلی ترجیح بنا لیا ہے تاکہ تیزی سے عملی نتائج حاصل کیے جا سکیں اور انسانی موجودگی کو خلا میں جلد ممکن بنایا جا سکے۔
چاند پر انسانی شہر بنائیں گے: ایلون مسک
