فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان سے خطے کی سیکورٹی صورت حال کے تناظر میں ایک انتہائی اہم ملاقات کی۔
اس ملاقات کے دوران ایران کی طرف سے سعودی سرزمین پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں پر نہ صرف سخت تشویش کا اظہار کیا گیا بلکہ اس بلا اشتعال کاروائی کے خلاف پاک-سعودی دفاعی معاہدے (SMDA) کے فریم ورک کے تحت سعودی سرزمین کے عملی دفاع کا اعادہ بھی کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے برادر اسلامی ملک ایران کو خطے کی سلامتی کیلئے ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو دوست ممالک کی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع کے ساتھ اس اہم ملاقات کے فوری بعد ایران کی طرف سے پڑوسی اسلامی ممالک کو نشانہ نہ بنانے کا بیان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے انتہائی مثبت تصور کی جارہا ہے۔ بین الاقوامی اُمور کے ماہرین کے مطابق خطے میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
اس تمام تنازعے کے دوران پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ایک متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی کے ذریعے تمام شِراکت داروں سے روابط جاری رکھے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایرانی صدر کے حالیہ بیان کے پس منظر میں پاکستان کی تسلسل سے جاری سفارتی کوششوں کا وسیع عمل دخل موجود ہے۔
