سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا، جس میں دونوں ممالک کے وفود نے تقریباً 45 منٹ تک مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی اجلاس میں دونوں فریقوں نے موجودہ اختلافات، علاقائی سلامتی، اقتصادی معاملات اور دیگر اہم نکات پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔ اگرچہ کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم بات چیت کو مثبت ماحول میں آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
پہلے دور کے اختتام پر مذاکرات کو مختصر وقفے کے لیے روک دیا گیا، جس کے بعد مزید نشستوں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ اجلاسوں میں اختلافی معاملات کو کم کرنے اور قابلِ عمل حل تلاش کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بعد مذاکرات کے اس نئے مرحلے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور دیرپا استحکام کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل
