وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت وزارت کے جاری منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں بحری اور ماہی گیری کے شعبوں کی ترقی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں جدید طریقوں کے ذریعے ماہی گیری کی استعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ قومی فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیر بحری امور نے کہا کہ پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے میں 10 ارب ڈالر کی معاشی صلاحیت موجود ہے، جس سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔اجلاس میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے 30 لاکھ ڈالر کے منصوبے کے اجرا کا بھی جائزہ لیا گیا۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بحری ترقی کو سمندری ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔
وزیر بحری امور نے ہدایت کی کہ بحری شعبے میں کاروبار کے لیے طریقہ کار آسان بنایا جائے اور بحری اقتصادی سرگرمیوں سے متعلق فیصلوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی آرا کو شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے کاروباری برادری کو سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک کے لیے گوادر پورٹ پر آف ڈاک ٹرمینل کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔
