ایمریٹس ایئر لائن کے صدر سر ٹم کلارک نے یہ تصدیق کر دی ہے کہ ایئر لائن طویل تاخیر اور ڈیزائن میں تبدیلیوں کے باعث اپنے پہلے 10 بوئنگ 777X طیارے وصول نہیں کرے گی، کیونکہ یہ ابتدائی طیارے ان کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔
تفصیلات کے مطابق امارات ایئرلائن نے بوئنگ کو واضح کر دیا ہے وہ طویل تاخیر کے بعد تیار کیے گئے ابتدائی 10 بوئنگ 777X طیارے وصول نہیں کرے گی۔ ایئرلائن کے صدر سر ٹم کلارک کا کہنا ہے کہ کئی برس کی تاخیر کے دوران طیاروں کے ڈیزائن میں تبدیلیاں اور تکنیکی مسائل سامنے آئے، اس لیے یہ ابتدائی طیارے ان کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔
رپورٹس کے مطابق بوئنگ 777X کی پہلی کمرشل ڈیلیوری، جو اصل میں 2020 میں ہونا تھی، اب 2027 کی دوسری سہ ماہی تک متوقع ہے۔ سر ٹم کلارک نے کہا کہ امارات صرف وہی طیارے قبول کرے گی جو معاہدے کے مطابق مکمل معیار اور کارکردگی پر پورے اتریں۔
کلارک نے ایئر شو کے دوران کہا کہ ان جیٹ طیاروں میں تیاری کے بعد سے اتنی زیادہ تبدیلیاں (موڈیفکیشنز) کی جا چکی ہیں کہ اب انہیں مطلوبہ معیار کے مطابق لانے کی کوشش کرنا بے معنی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم وہ کھیپ نہیں لے رہے، بات ختم۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، وہ ان طیاروں کا کیا کرتے ہیں، یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔” جب انہیں بتایا گیا کہ بوئنگ کسی اور خریدار کی تلاش میں ہے، تو انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا: "شاید ‘ہینز’ (Heinz) کو اس میں دلچسپی ہو، ‘بیکڈ بینز’ (baked beans) کے ڈبوں کے لیے۔”
یہ مایوسی برسوں کے انتظار کا نتیجہ ہے ایمریٹس دنیا میں 777X کا سب سے بڑا گاہک ہے جس نے 270 طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے (جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 440 ملین ڈالر ہے) اور اسے توقع ہے کہ یہ طیارے بالآخر اس کے ایئربس A380s کی جگہ لیں گ۔ پہلا جیٹ 2019 میں تیار ہوا تھا اور اس کی ڈیلیوری 2020 میں متوقع تھی۔ اب اس کی آمد جلد از جلد 2027 میں متوقع ہے، یعنی تقریباً سات سال کی تاخیر کے بعد-
کلارک نے 2019 میں پیش آنے والے ساختی نقص (structural failure) کی طرف بھی اشارہ کیا، جب زمین پر کیے جانے والے ‘اسٹریس ٹیسٹ’ (دباؤ کے امتحان) کے دوران 777X کا ایئر فریم پھٹ گیا تھا؛ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ وہ ابتدائی طیاروں کے حوالے سے محتاط ہیں۔
ان کے تبصروں کا مقصد 777X پروگرام کو مسترد کرنا نہیں ہےجس کی ایمریٹس کو اب بھی ضرورت ہےبلکہ ان مخصوص ابتدائی طیاروں پر اعتراض ہے جن میں تاخیر کے برسوں کے دوران اتنی زیادہ تبدیلیاں کی گئی ہیں کہ اب وہ اس حتمی طیارے سے مشابہت نہیں رکھتے جسے آخرکار سرٹیفیکیشن (منظوری) ملے گی۔
اس طنزیہ تبصرے میں شاید کچھ حقیقت بھی ہو۔ اطلاعات کے مطابق، ابتدائی 777X طیاروں میں سے ایک کو بوئنگ پہلے ہی ناکارہ قرار دے کر تلف (scrapped) کر چکا ہے کیونکہ وہ برسوں تک بغیر استعمال کے پڑا رہا تھا۔
