دی نیوز اور جنگ کے صفحہ اول پر جیو نیوز کے مالکان اور ادارتی ٹیم کی طرف سے دسویں محرم کی نشریات کے دوران ایک انتظامی غلطی کے حوالے سے ایک باضابطہ معافی نامہ شائع کیا گیا ہے
معافی نامہ میں کہا گیا ہے کہ ۲۶ جون ۱۰ محرم الحرام کی خصوصی نشریات کے دوران نشر کی جانے والی دستاویزی فلم «سفر عشق میں ایک مختصر ، علامتی اور بغیر چہرے کی بصری عکاسی دکھائی گئی۔یہ بصری عکاسی نہ صرف ہماری ادارتی پالیسی بلکہ ہمارے ایمان ، عقیدے اور دینی جذبات کے بھی سراسر خلاف تھی۔ یہ نہایت افسوسناک انتظامی کو تا ہی تھی، جس پر ہمیں دلی رنج ، شدید شرمندگی اور گہری ندامت ہے۔جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس واقعے کا علم ہوتے ہی، کسی بھی بیرونی نشاندہی سے قبل، ہم نے از خود ضروری اور فوری اقدامات کیے ، اس غلطی کا بلا تاخیر تدارک کیا، متعلقہ مواد کو ہٹادیا، اور آئندہ اس نوعیت کی کسی بھی کوتاہی کے سد باب کے لیے موثر اور مستقل انتظامات یقینی بنائے۔
جیو نیوزکی جانب سے مزید کہا گیا کہ ہم اپنی اس غفلت اور انتظامی کو تاہی پر ، دینی احساسِ تقدس، تعظیم رسول الله ال سلیم اور پیشہ ورانہ احساس ذمہ داری کے تقاضے کے تحت ایک بار پھر نہایت عاجزی، انکساری اور خلوص دل کے ساتھ استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کے طلبگار ہیں۔ہم ایسی کسی بھی غلطی کے سد باب کے لیے موثر اقدامات کر چکے ہیں اور آئندہ ادارتی فرائض کی ادائیگی میں اس امر کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا کہ ایسی کو تاہی دوبارہ رونمانہ ہو۔ انشاء اللہ
جیو نیوز، روزنامہ جنگ اور دی نیوز کی جانب سے دسویں محرم الحرام کی خصوصی نشریات کے دوران پیش آنے والی انتظامی غلطی پر باضابطہ معافی، ندامت اور آئندہ ایسی کوتاہی سے بچنے کے عزم کا اظہار ایک مثبت اور ذمہ دارانہ اقدام ہے۔اگر کوئی ادارہ اپنی غلطی کو تسلیم کرے، عوام کے سامنے اس پر معذرت کرے، اصلاحی اقدامات کا اعلان کرے اور واضح طور پر اس بات کا اعتراف کرے کہ یہ عمل اس کی ادارتی پالیسی اور دینی عقائد کے خلاف تھا، تو انصاف اور اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی معافی کو قبول کیا جائے۔
اسلام ہمیں توبہ، معافی اور اصلاح کا درس دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص یا ادارہ اپنی غلطی پر اصرار کرنے کے بجائے اسے تسلیم کرے، ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ ایسی غلطی نہ دہرانے کی یقین دہانی کرائے، تو مسلسل نفرت، اشتعال یا انتقام کے بجائے اصلاح کے جذبے کو فروغ دینا چاہیے۔یہ توقع ضرور کی جانی چاہیے کہ تمام میڈیا ادارے مستقبل میں مذہبی معاملات، مقدس شخصیات اور دینی جذبات سے متعلق مواد کی تیاری اور نشر کرنے میں مزید احتیاط، مؤثر نگرانی اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں تاکہ ایسی کسی بھی انتظامی کوتاہی کا دوبارہ امکان نہ رہے۔غلطی قابلِ افسوس تھی، لیکن اس پر معافی، اصلاح اور احتساب کا عمل بھی سامنے آ چکا ہے۔ ایسے میں معاشرے میں برداشت، ذمہ داری اور اصلاح کی روایت کو فروغ دینا ہی زیادہ مثبت طرزِ عمل ہوگا۔
