گوجرانوالہ پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل غیر اخلاقی ویڈیو (عمیری) میں ملوث خاتون کو حراست میں لے لیا ، زنا کا مقدمہ درج کر لیا گیا
سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کے نوٹس پر پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔ تھانہ اروپ پولیس نے جدید سائنٹفک طریقہ کار سے تفتیش کرتے ہوئے خاتون کو ٹریس کر کے حراست میں لیا، مقدمہ درج کر لیا گیا،ویڈیو میں نظر آنے والے ملزم کی گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی کینٹ کی زیر نگرانی پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں،سی پی او کا کہنا ہے کہ مقدمہ کی تفتیش میرٹ پر کرتے ہوئے ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی ۔
دوسری جانب سی سی ڈی لاہور کے ذمہ دار افسر ایس پی آفتاب پھلروان کا کہنا ہے کہ مذکورہ کیس ز نا بالرضا کا ہے اس میں زیا دتی کا پہلو ہوتا تو یہ کیس سنگین ہوتا ۔ سی سی ڈی صرف سنگین نوعیت کے ریپ کیسز کو ہینڈل کرتی ہے ، کیونکہ ہمیں ریاست نے اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کرنا ۔ عمیری کے نیفے میں پستول چلنے یا اسکے پار ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں ، حقیقت میں سی سی ڈی کے پاس عمیری کا کیس ہی نہیں ، یہ مقامی پولیس کے جینڈر سیل کا کیس ہے وہی اسے دیکھ رہے ہیں ، جب یہ معاملہ وائرل ہوا تو سی سی ڈی نے بنیادی طور پر کیس کا جائزہ ضرور لیا لیکن ہمارے افسران نے فیصلہ کیا کہ یہ ہمارا کیس نہیں ہے چنانچہ ہم پیچھے ہٹ گئے ،سی سی ڈی جرائم کے خلاف ایک معتبر ادارہ ہے ۔ عوام کے اندر اسکی عزت ہے اور ہم انشااللہ اپنے دائرہ کار سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریں گے اور عوام سے ملنے والی عزت اور نام کو سنبھال ک رکھیں گے
یاد رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک مبینہ نازیبا ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جسے صارفین عمیری لیک ویڈیو کا نام دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو تقریباً 7 منٹ 11 سیکنڈ کی بتائی گئی اور اس میں ایک نوجوان شخص جسے عمیری کہا جا رہا ہے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ازواجی عمل میں ملوث نظر آیا۔ویڈیو کے کلپس ایکس پر پارٹس میں شیئر کیے جا رہے ہیں جہاں ایک شادی شدہ خاتون نشے کی حالت میں عمیری نامی شخص سے غیر قانونی طور پر ازواجی عمل میں مصروف ہے جبکہ اس دوران خاتون عمیری نامی شخص سے سے بار بار نکاح کرنے کی بات کرتی نظر آتی ہے۔خاتون شدید غصے کی حالت میں اپنے شوہر، والدین اور بھائیوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے کروائی گئی جو اس کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ ویڈیو میں خاتون کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ویڈیو بنا کر میرے بھائیوں اور والد کو بھیج دو جبکہ عمیری کا جواب ہے کہ اگر سرمایہ ہوتا تو دو سال پہلے نکاح کر لیتا۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ایکس پر میمز، جوکس اور طنزیہ پوسٹس کا سیلاب آ گیا ہے ،یہ معاملہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں وائرل ہونے والے دیگر لیک ویڈیو سکینڈلز (جیسے مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا اور دیگر ٹک ٹاکرز) کی طرح پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی کا باعث بن رہا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز اکثر ہیکنگ، بلیک میلنگ یا ذاتی انتقام کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایکس پر کئی پوسٹس میں جعلی لنکس شیئر کیے جا رہے ہیں جو وائرس یا فراڈ کا سبب بن سکتے ہیں،سائبر کرائم ایکسپرٹس نے خبردار کیا ہے کہ حساس مواد شیئر کرنا یا مشکوک لنکس پر کلک کرنا قانونی طور پر جرم ہے اور پیکا ایکٹ کے تحت سخت سزا ہو سکتی ہے۔
