مری کے ایک گاؤں گوہڑہ میں دو ماہ کا ایک ننھا بچہ برساتی نالے میں مردہ ملا ہے۔ الزام ہے کہ اسے کسی غیر نے نہیں، اس کی اپنی ماں نے نالے میں پھینکا۔ پولیس کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے پہلے ہی چھ بچے ہیں اور وہ مزید ایک بچے کی پرورش کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔
یہ ایک ایسے معاشرے کی موت کا نوحہ ہے جہاں غربت انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے کہ ماں کی ممتا بھی حالات کے سامنے ہار جاتی ہے،ذرا تصور کیجیے، وہ ماں جب اپنے دو ماہ کے بچے کو گود میں اٹھا کر نالے کے کنارے پہنچی ہوگی تو اس ننھے وجود نے شاید ماں کے چہرے کی طرف دیکھا ہوگا۔ شاید اس کی ننھی انگلی نے ماں کی انگلی تھامنے کی کوشش کی ہوگی۔ شاید اسے کیا خبر تھی کہ جس سینے سے اسے زندگی ملنی تھی، وہی سینہ آج اسے دنیا سے رخصت کرنے پر مجبور ہے۔ماں نے بچے کو نالے میں پھینکا ہوگا، مگر سوال یہ ہے کہ اس ماں کو وہاں تک کون لے کر گیا؟کیا صرف وہ عورت مجرم ہے؟یا وہ غربت بھی مجرم ہے جو ایک گھر میں چھ بچوں کے بعد ساتویں بچے کو نعمت کے بجائے بوجھ بنا دیتی ہے؟وہ مہنگائی بھی مجرم ہے جس میں غریب باپ کے ہاتھ میں محنت کے باوجود گھر کا چولہا جلانا مشکل ہے؟وہ بے روزگاری بھی مجرم ہے جو باپ کو بچوں کی آنکھوں میں دیکھنے سے پہلے اپنی خالی جیب دیکھنے پر مجبور کرتی ہے؟اور وہ نظام بھی مجرم ہے جہاں ایک طرف لاکھوں خاندان دو وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں اور دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں آسائشوں، پروٹوکول اور مراعات کی کوئی حد نہیں؟
ایک ماں کے پاس چھ بچے ہوں اور وہ ساتویں بچے کو پالنے سے عاجز ہو جائے تو ہمیں اس کے پیچھے چھپی بھوک بھی دیکھنی چاہیے۔ ہمیں اس گھر کی خالی الماری دیکھنی چاہیے۔ وہ چولہا دیکھنا چاہیے جس پر شاید کئی راتوں سے مناسب کھانا نہیں پکا۔ ہمیں ان بچوں کی آنکھوں میں جھانکنا چاہیے جنہیں شاید دودھ کے بجائے غربت کا ذائقہ ملا ہے۔افسوس،جہاں ایک غریب ماں کے پاس اپنے بچے کے لیے دودھ خریدنے کے پیسے نہیں، مگر اقتدار کے ایوانوں میں سرکاری وسائل پر عیش و عشرت کے دروازے بند نہیں ہوتے۔جہاں عوام کو کفایت شعاری کے بھاشن دیے جاتے ہیں، مگر مراعات کے محل آباد رہتے ہیں۔جہاں غریب سے کہا جاتا ہے کہ صبر کرو، قربانی دو، حالات بہتر ہوں گے؛ مگر جن کے ہاتھ میں اختیار ہے، ان کی زندگی میں وہ مشکل کبھی داخل نہیں ہوتی جس کا روزانہ سامنا ایک مزدور، ایک رکشہ ڈرائیور، ایک دیہاڑی دار اور ایک بے سہارا ماں کرتی ہے۔
کاش حکمران کبھی بجٹ کی فائلوں سے نکل کر کسی غریب گھر کی دہلیز پر بیٹھیں۔کاش وہ کسی ماں سے پوچھیں کہ مہینے کے آخری دن اس کے گھر میں کیا پکتا ہے۔کاش وہ کسی باپ سے پوچھیں کہ جب بچے دودھ مانگتے ہیں اور جیب خالی ہو تو باپ کے دل پر کیا گزرتی ہے۔کاش انہیں معلوم ہو کہ غربت کیا ہے؟ غربت وہ اذیت ہے جو انسان سے اس کے خواب، اس کا سکون اور کبھی کبھی اس کی سوچنے کی صلاحیت تک چھین لیتی ہے۔
اگر اس سانحے کے بعد بھی ہم نے صرف ایک ماں کو مجرم قرار دے کر اپنی ذمہ داری ختم کردی تو شاید اصل مجرم ہم سب ہوں گے،کیونکہ معاشرہ اس وقت تباہ نہیں ہوتا جب ایک بچہ نالے میں پھینکا جاتا ہے؛ معاشرہ اس وقت تباہ ہوتا ہے جب ایک بچے کے نالے میں گرنے پر بھی ایوانِ اقتدار کی کھڑکیاں بند رہیں،آج ایک ننھی قبر ہم سے سوال کر رہی ہے،کیا میرا قصور صرف یہ تھا کہ میں ایک غریب گھر میں پیدا ہوا؟اور اس سوال کا جواب کسی پولیس رپورٹ میں نہیں ملے گا،اس کا جواب ان حکمرانوں کو دینا ہوگا جو عوام کے ووٹ سے اقتدار کے محلات تک پہنچتے ہیں،کیونکہ ریاست کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ طاقتور کو کتنی سہولت دیتی ہے؛ریاست کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے بے بس بچے کو کتنی حفاظت دیتی ہے،مری کے اس ننھے بچے کی خاموش لاش شاید اب کچھ نہیں کہہ سکتی، مگر اس کی خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے،وہ کہہ رہی ہے،”مجھے نالے نے نہیں مارا، مجھے غربت نے مارا ہے۔مجھے میری ماں نے نہیں، حالات نے مارا ہے۔اور اگر تم نے اب بھی کچھ نہ کیا تو کل کسی اور ماں کی گود بھی خالی ہوگی۔”
