تاریخ کے ہر روشن باب کی ابتدا کسی تلوار سے نہیں بلکہ ایک بیدار فکر سے ہوئی ہے۔ یہی فکر انسان کو زمانے کا مسافر نہیں بلکہ زمانہ ساز بناتی ہے۔انسان کو عطا کی گئی تمام نعمتوں میں فکر وہ انمول عطیہ ہے۔ جو محض زندگی نہیں بلکہ زندگی کا شعور مقصد اور سمت عطا کرتا ہے ۔
تاریخ شاید ہے کہ عظیم تہذیبوں کی بنیاد اینٹ اور پتھر سے پہلےافکار پر رکھی گئی۔ ہر انقلاب ہر علمی بیداری اور ہر مثبت تبدیلی کے پس منظر میں ایک زندہ فکر کار فرما رہی ہے۔ طاقت وقتی غلبہ تو حاصل کر سکتی ہے۔ مگر دل اور ذہنوں پر حکمرانی ہمیشہ نظریات ہی کرتے ہیں۔ جو قومیں اپنی فکری شناخت کو زندہ رکھتی ہیں ۔ وہ زمانے کی رہنما بنتی ہیں جبکہ سوچ کی غلامی قوموں کو زوال کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ آج کل المیہ یہ نہیں کہ معلومات کم ہیں ۔بلکہ یہ ہے کہ فکر کم ہوتی جا رہی ہے ۔ہم نے علم کو محض معلومات تک محدود کر دیا ہے حالانکہ حقیقی علم وہ ہے۔ جو انسان کے اندر سوال پیدا کرے۔ بصیرت عطا کرے اور حق و باطل میں تمیز کا شعور بخشے۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنا تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا اور نئی سوچ کو قبول کرنا ہی زندہ معاشروں کی پہچان ہے۔
اگر ہم ایک باوقار باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔ تو ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف تعلیم نہیں بلکہ سوچنے سمجھنے اور دلیل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا ہنر بھی سکھانا ہوگا ۔کیونکہ قوموں کی اصل طاقت ان کے وسائل میں نہیں بلکہ ان کے افکار میں پوشیدہ ہوتی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ تہذیب پتھروں سے نہیں افکار سے تعمیر ہوتی ہے ۔اور تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کا نام روشن حروف میں لکھتی ہے جن کی فکر زندہ ازاد اور بیدار ہوتی ہے۔
