Baaghi TV

ایک دوسرے کی رہنمائی کیجئے۔تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

زندگی دکھوں کا گھر ہے۔اس میں کبھی خوشی اور کبھی غم کے لمحات میسر آتے ہیں۔ یہ جسم و روح کے درمیان قائم ہونے والا ایک دائمی تعلق ہے۔ صدیوں سے قائم و دائم ہے۔انسان جب تک بدن کے وطن میں زندہ ہے۔ اسے اچھا اور برا وقت میسر آتا ہے۔ وہ طرح طرح کے آثار و کیفیات کا سامنا کرتا ہے۔ بچپن جوانی اور بڑھاپے کے الگ الگ دور ہیں۔

یہ ایک تلخ، ترش اور کڑک حقیقت ہے۔ انسان کو جگہ جگہ مشکلات ، دکھوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم دنیا بھر میں بے بس لوگوں کا ایک سرسری جائزہ لیں تو یہ بات ہم پر واضح ہو جائے گی کہ لوگ کن کن دکھوں میں گرے ہوئے ہیں۔ انھیں کن کن مشکلات کا سامنا ہے؟ وہ کتنے بے بس اور دکھی ہیں؟ ان کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
وہ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔کوئی مالی طور پر پریشان ہے۔کوئی جسمانی طور پر پریشان ہے۔کوئی روحانی طور پر بیمار ہے۔ دکھ نفسیاتی طور پر پریشان کرتے ہیں۔ مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ چلنے پھرنے سے قاصر بنا دیتے ہیں۔ ان کا تجسم پوچھے بغیر ہوتا ہے۔
یہ بے سمت سفر کے عادی ہوتے ہیں۔انھیں جس جگہ پنپنے کا موقع ملے یہ دل و دماغ پر حملہ کر کے اسے مفلوج بنا دیتے ہیں۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم بنا دیتے ہیں۔ انسان بے چارہ یک دم مدہوش ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔اسے پل بھر کی خبر نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ انسان کو اس بات کا ادراک تو بعد میں ہوتا ہے کہ میرے ساتھ کیا ہو گیا۔

اگر ہم اپنے ملک و قوم اور معاشرے کا مطالعہ کریں تو ہمیں روزمرہ زندگی میں بہت سے ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، جو اپنی منزل سے بھٹکے ہوتے ہیں۔ان کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔بلکہ ایسے لوگوں سے لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر لوٹ لیتے ہیں۔ دھوکہ دہی ہمارے معاشرے کی عام سی بات ہے۔ شاید ہم اس بات کو معمولی بات سمجھتے ہیں۔اسے گناہ نہیں سمجھتے۔ ہمیں جگہ جگہ ایسے دل خراش واقعات سننے کو ملتے ہیں۔مثال کے طور پر کسی جگہ قتل ہو جاتا ہے۔ کہیں راہ زنی جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔ کہیں ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے۔ کہیں لوگوں کو لوٹ گھسوٹ لیا جاتا ہے۔ کہیں منشیات فروشی کا دھندہ ہے۔ کہیں زنا کاری کے اڈے ہیں۔ ایسے تمام واقعات جسم روح میں لرزہ طاری کر دیتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر انسان کا دل مرجھا جاتا ہے۔ روح کانپ جاتی ہے۔دماغ ماؤف ہو جاتا ہے۔ یہ انسانی فطرت کا خاصا ہے کہ وہ کسی چیز کے اثرات کو بہت جلد قبول کرتی ہے۔ خواہ اس کے نتائج مثبت یا منفی صورت میں سامنے آئیں۔ انسان جو کچھ اپنے معاشرے میں ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔وہ اسی کی پیروی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ زندگی تجربات و مشاہدات کا نام و پرچار ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی بجائے ہنگامی بنیاد پر رہنمائی کرنی چاہیے۔ خوفناک گمراہی اور برگشتگی سے بچانا چاہیے۔کسی کی راہ میں بچھے کانٹوں کو اٹھا دینا چاہیے۔اگر آج ہم اچھا کام کریں گے تو کل اس کا اجر بھی ملے گا۔ہمیں دین و دنیا کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسے سماچ کو تشکیل دینا ہے جہاں نفرت جھوٹ ، فریب اور مکر نہ ہو۔یہی انسانیت اور بشریت کا تقاضا ہے۔ ورنہ دنیا تو گناہ کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔

یقینا فتح کا جھنڈا لہرانے کے لیے قوت فیصلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسان بروقت اچھے فیصلے کی بنیاد رکھ لے تو وہ بہت سی مشکلات سے بچ سکتا ہے۔ وہ اپنی اور دوسروں کی ذات کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ فقط ایک فیصلہ ہمارا مقدر سنوار دیتا ہے۔تباہ ہونے سے بچا لیتا ہے، جو ذہن کے بند کواڑ سے نکلتے ہی امن کی چادر بچھا سکتا ہے۔بھٹکی روحوں کو پاس لا سکتا ہے۔زندگی کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے رہنمائی بہت ضروری ہے۔کیونکہ سماج میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس قوت فیصلہ کی کمی ہوتی ہے۔وہ اپنی کم فہمی کے باعث بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ان کی ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ایسے لوگوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ یہ خدا اور انسان کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔انسان کو اپنے منشور اور نفسیات کے ساتھ اس بات کو نتھی کر لینا چاہیے کہ میرے قدم اٹھانے سے نہ جانے کتنے لوگوں کی زندگی بچ سکتی ہے۔وہ زمانے کی ٹھوکروں سے بچ سکتے ہیں۔ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکتے ہیں۔ یہ حکمت و بصیرت کا حسین امتزاج ہے۔ وقت کو غنیمت جانتے ہوئے کسی بھی حالات وقت اور موسم میں ایک دوسرے کی رہنمائی ضرور کیجئے۔ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور پکار بھی۔ ماضی کو چھوڑ دیجئے ۔مستقبل کی طرف قدم بڑھائیے۔ یقینا خدا دو قدم ساتھ بڑھائے گا۔

More posts