Baaghi TV

ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

پاکستان اسلامی ملک ہے لیکن آج تک پاکستان میں نا تو کسی کو شرعی سزا دی گئی اور نا ہی کسی شرعی قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ہراسمنٹ کا شکار صرف عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا شکار عورتوں کے ساتھ مرد بھی ہیں۔

بہت سے کیسز ایسے رپورٹ ہوتے ہیں جہاں سکول کالجز میں جوان لڑکوں، آفسز میں مردوں کو بھی ہراس کیا جاتا ہے

مدارس میں طالب علموں کو بھی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے
کبھی ان کو نمبروں کے بہانے تو کبھی سیلیری کے بہانے
کبھی سکول کالجز میں چھٹی کے بہانے تو

کبھی آفس میں ڈیوٹی میں نرمی کے بہانے ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے تو کبھی ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ تک بنایا جاتا ہے۔

لیکن مرد بیچارہ عزت کی خاطر کسی سے بات نہیں کر سکتا اور چپ ہو کر ہراسمنٹ کا شکار بنتا رہتا ہے
ہمارے ہر ادارے میں ایسے درندے موجود ہیں جو مردوں پے بھی عورتوں کی طرح کی نظر رکھتے ہیں
موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کیسے ان کو موقع ملے وہ اپنا کام پورا کریں

اور مرد کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنائیں۔

اسلام میں زانی کے لیے سخت سزا کا حکم دیا گیا ہے
 زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے

حضرت لوط علیہ سلام کی قوم پر عذاب بھی اسی وجہ سے آیا تھا وہ نوجوان لڑکوں کے ساتھ زناء کیا کرتے تھے
اللہ پاک نے قرآن پاک میں کہی مقام پر لوط علیہ سلام کی قوم کا ذکر کیا ہے

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور لوطؑ کو یاد کرو،

جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ’’ تم بے حیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو؟ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذّت (حاصل کرنے) کے لیے مَردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔‘‘
(سورۃ النمل54,55)

اج بھی ہم اگر اپنے ارد گرد معاشرے میں دیکھیں تو ہمیں بہت سے مرد ایسے ملیں گے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتی لیکن وہ مرد ہونے کے ناطے کسی سے ذکر کرنے کے بجائے یا تو اس زیادتی کا شکار بنتے رہتے ہیں یا پھر وہ ادارہ، سکول کالج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ایک اور جگہ اللہ پاک نے فرمایا

"اور قومِ لوط ؑ نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ۔ جب اُن سے اُن کے بھائی، لوطؑ نے کہا کہ’’ تم کیوں نہیں ڈرتے، مَیں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور مَیں تم سے اِس (کام )کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ (اللہ) ربّ العالمین کے ذمّے ہے۔ کیا تم اہلِ عالَم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، اُن کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔‘‘
(سورۂ الشعرا 160-166)

ہمیں اپنے ارد گرد کے معاشرے میں اپنی بہن بیٹیوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی بے نقاب کرنے، ان کو سزائیں دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا

ہمارے اداروں کو بھی ایسے لوگوں پر نظر رکھنی ہو گی جہاں پر ایسے درندے موجود ہیں جو عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں
@alwaystalat

More posts