Baaghi TV

بھارت کا مفرور شیخ حسینہ واجد کو تقریر کی اجازت دینا امن کیلئے خطرہ ہے ، بنگلہ دیش

بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے بھارت کی طرف سے مفرور سابقہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو 23 جنوری کو نئی دہلی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کی اجازت دینے پر شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کیاہے۔

بنگلا دیشی کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیخ حسینہ نے بھارتی سرزمین سے اپنے خطاب میں تشدد بڑھکانے اور عوام کو موجودہ عبوری حکومت کیخلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی ہے۔ شیخ حسینہ نے بھارت کی جانب سے فراہم کردہ پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اپنی جماعت عوامی لیگ کے حامیوں کو ملک کے آئندہ عام انتخابات سبوتاژ کرنے کیلئے دہشتگردی کی کارروائیوں پر اکسانے کی کوشش کی۔بیان میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بھارت نے دوطرفہ حوالگی معاہدے کے باوجود شیخ حسینہ کی حوالگی کیلئے بنگلا دیش کی بارہا درخواستوں پر کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ اس طرزِعمل سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچاہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارتی دارالحکومت میں شیخ حسینہ کو اشتعال انگیز بیانات دینے کی اجازت دینا نہ صرف بنگلا دیش کی جمہوری طورپر اقتدار کی منتقلی کے عمل بلکہ خطے کے امن و سلامتی کیلئے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔

ڈھاکہ نے اس پیشرفت کو بنگلا دیشی عوام اور حکومت دونوں کے لیے واضح توہین قرار دیتے ہوئے خبردار کیاکہ اس کے علاقائی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔یہ واقعہ بنگلا دیش اور بھارت کے تعلقات کے مستقبل کیلئے ایک خطرناک مثال ہے اور ڈھاکہ میں کسی بھی آئندہ منتخب حکومت کی نئی دہلی کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ عوامی لیگ کی قیادت کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیز بیانات نے عبوری حکومت کے اس فیصلے کو مزید تقویت دی ہے جس کے تحت پارٹی کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ انتخابات سے قبل یا ان کے دوران کسی بھی قسم کے تشدد یا دہشتگردی کے واقعات کی مکمل ذمہ داری عوامی لیگ پر عائد کی جائے گی جبکہ انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

More posts